تو وہ ہندوستاں میں لالا ہے
تو وہ ہندوستاں میں لالا ہے جس کا داغی غلام لالا ہے ہاتھ وحشت سے روک اے مجنوں پاؤں پڑتا ہر ایک چھالا ہے بے مے و نان ہوں میں وہ غیروں سے ہم پیالہ ہے ہم نوالا ہے دل ہر شیخ و برہمن ہے جدا کہیں مسجد کہیں شوالا ہے اس کے آنے سے تن میں جان آئی دم آخر لیا سنبھالا ہے چپ رہوں کیا میں صورت ...