قومی زبان

تو وہ ہندوستاں میں لالا ہے

تو وہ ہندوستاں میں لالا ہے جس کا داغی غلام لالا ہے ہاتھ وحشت سے روک اے مجنوں پاؤں پڑتا ہر ایک چھالا ہے بے مے و نان ہوں میں وہ غیروں سے ہم پیالہ ہے ہم نوالا ہے دل ہر شیخ و برہمن ہے جدا کہیں مسجد کہیں شوالا ہے اس کے آنے سے تن میں جان آئی دم آخر لیا سنبھالا ہے چپ رہوں کیا میں صورت ...

مزید پڑھیے

گر جنوں کر مجھے پابند سلاسل جاتا

گر جنوں کر مجھے پابند سلاسل جاتا پاؤں رکھنے کا ٹھکانا تو کہیں مل جاتا مر بھی جاتا تو نہ میرا مرض سل جاتا غم اصنام کی چھاتی پہ دھرے سل جاتا خط عارض جو ترشنے سے مٹے ہے یہ محال چھیلنے سے نہیں قسمت کا لکھا چھل جاتا چھوٹتا عید کے دن بھی نہ گرفتاروں کو صورت طوق گلو گیر گلے مل جاتا جب ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں غنچۂ گل نیم دہاں ہے کچھ اور

کیا کہوں غنچۂ گل نیم دہاں ہے کچھ اور لا‌ کلامی ہے وہاں بات یہاں ہے کچھ اور بجھ گئی آتش گل دیکھ تو اے دیدۂ تر کیا سلگتا ہے جو پہلو میں دھواں ہے کچھ اور پانی اس میں سے بھریں اس میں گریں یوسف دل چشمۂ چاہ ذقن اور کنواں ہے کچھ اور جیتے جی موت کا ڈر بعد فنا خوف عذاب جز غم و رنج یہاں ہے ...

مزید پڑھیے

ناتواں وہ ہوں نگاہوں میں سما ہی نہ سکوں

ناتواں وہ ہوں نگاہوں میں سما ہی نہ سکوں بھروں آنکھوں میں نظر سا نظر آ ہی نہ سکوں دل جلانا ہے تو اے مہر جلا مثل کباب داغ کچھ مہر نہیں ہے جو اٹھا ہی نہ سکوں تہ شمشیر دو دم خوش ہوں یہ شیشے کی طرح ایک دم سنگ دلوں سے میں بنا ہی نہ سکوں ہم نشیں یار ہو کیا یہ ہے نصیبوں میں فراق جوڑ اعضا ...

مزید پڑھیے

جو مرغ قبلہ نما بن کے آشیاں سے چلے

جو مرغ قبلہ نما بن کے آشیاں سے چلے تڑپ تڑپ کے وہیں رہ گئے جہاں سے چلے جگر شگاف ہو یا دل ہو چاک وحشت سے جنوں میں جامۂ تن دیکھیے کہاں سے چلے جو مر کے ریگ رواں بھی بنے ضعیفی میں یہاں پہ رہ گئے ہم ناتواں وہاں سے چلے ثبات جامۂ ہستی ہو خاک پیری میں جو پیرہن ہو پرانا بہت کہاں سے ...

مزید پڑھیے

پاس اس بت کے جو غیر آ کے کوئی بیٹھ گیا

پاس اس بت کے جو غیر آ کے کوئی بیٹھ گیا درد اٹھا یا مرے جس میں کہ جی بیٹھ گیا عشق مژگاں میں ہزاروں نے گلے کٹوائے عید قرباں میں جو وہ لے کے چھری بیٹھ گیا جب رقیب اس کو بتانے لگے ارکان نماز تھام کر دل کبھی اٹھا میں کبھی بیٹھ گیا اے جلا ساز کبھی پھر نہ صفائی ہوگی زنگ آئینۂ دل میں جو ...

مزید پڑھیے

لنج وہ پائے طلب ہوں کہیں جا ہی نہ سکوں

لنج وہ پائے طلب ہوں کہیں جا ہی نہ سکوں شل یہ ہو دست ہوس ہاتھ بڑھا ہی نہ سکوں ضد یہ اس کو ہے جو رویا میں بھی چھپ کر جاؤں کھول دی آنکھ نظر خواب میں آ ہی نہ سکوں دیکھ کر حسن بتوں کا جو خدا سے پھر جائے دل گمراہ کو پھر راہ پہ لا ہی نہ سکوں مدد اے دست جنوں پیرہن گل کی طرح یہ پھٹے جامۂ ...

مزید پڑھیے

قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہے

قول اس دروغ گو کا کوئی بھی سچ ہوا ہے واعظ جہان بھر کا جھوٹا لباریا ہے کعبے میں جس حسیں کا لگتا نہیں پتا ہے مل جائے بت کدے میں جو وہ صنم خدا ہے پوجا نہ کر بتوں کو اپنی ہی کر پرستش اے بت پرست پتلا تو بھی تو خاک کا ہے رگ رگ میں یہ بندھی ہے گرد ملال خاطر وہ صید ہوں کہ جس کا سب گوشت ...

مزید پڑھیے

خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیں

خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیں اجل کے مارے ہوئے کسی سے نہ بولتے ہیں نہ چالتے ہیں ذلیل ہوتے ہیں عیب ہیں خود جو عیب اس میں نکالتے ہیں انہیں کے اوپر ہی خاک پڑتی جو چاند پر خاک ڈالتے ہیں تلون عیش و غم سے باہم زمین یہ ننگ آسماں ہے کہ منہ سے ہم خون ڈالتے ہیں وہ رنگ ...

مزید پڑھیے

کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کے

کہتے ہیں نالۂ حزیں سن کے سو دل گداز ہیں دھن کے سر اگر کاٹنا ہے چن چن کے آستین چڑھاؤ چن چن کے شمع و پروانہ شب کو تھے دل سوز رہ گئے صبح تک وہ جل بھن کے گھن لگا موت کا جو اعضا میں استخواں خاک ہو گئے گھن کے میں وہ نالاں ہوں جس کے ہم سایہ کوستے ہیں فغاں مری سن کے کٹ سکا کوہ غم نہ آخر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1047 سے 6203