باز گشت
نغمہ زار درد کی جانب چلے ہم ایک بھی ذرہ نہ کچلا جائے اس رفتار سے نغمہ زار درد کی جانب چلے ہم کنج میں پیڑوں کے سورج جھانکتا تھا کوہساروں سبزہ زاروں میں جھمکتی روشنی کا جشن تھا جشن جاری ہی رہے گا تا ابد جاری رہے نغمہ زار درد کی جانب چلے ہم لعل و مرمر سے گندھا قالب اور اس کے محور اس کے ...