ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم ہو جائے بکھیڑا پاک کہیں پاس اپنے بلا لیں بہتر ہے اب درد جدائی سے ان کی اے آہ بہت ...