جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنا
جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنا بڑا گناہ یہاں ہے الف سے بے کہنا شب فراق میں سائے سے ڈر کے کہتا ہوں اجی یہ رات ڈرانی ہے جاگتے رہنا چمن میں پھول کھلے باغ میں بہار آئی عروس دہر نے گویا پہن لیا گہنا ہماری آہ و بکا سے ہے جسم شوق قوی یہ ہاتھ بایاں ہے اپنا وہ ہاتھ ہے دہنا فغان بلبل ...