منہ اندھیرے تیری یادوں سے نکلنا ہے مجھے
منہ اندھیرے تیری یادوں سے نکلنا ہے مجھے اور پھر ماضی کا پیراہن بدلنا ہے مجھے پربتوں پر صبح کی سی دھوپ ہوں میں ان دنوں جانتا ہوں اب ڈھلانوں پر پھسلنا ہے مجھے وار سے بچنا تو ہے ہی وار اک کرنا بھی ہے اور ان کے بیچ ہی رک کر سنبھلنا ہے مجھے مجھ پے ہی آ کر ٹکیں بے دار آنکھیں اس لیے بن ...