قومی زبان

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا

دعا ہم زاد ہو سکتی دیا ہم راز ہو سکتا میں ویرانی پہ اتنا تو اثر انداز ہو سکتا یہ میری خامشی اس انتہا کی خامشی ہوتی کسی بھی شام کا میں نقطۂ آغاز ہو سکتا میں بیتابانہ ان گلیوں میں پھرتا یہ مرا حق تھا مری دستک پہ شہر خواب کا در باز ہو سکتا یہ دن اور رات کس جانب اڑے جاتے ہیں صدیوں ...

مزید پڑھیے

میں ہوا تیرا ماجرا تو مرا ماجرا ہوا

میں ہوا تیرا ماجرا تو مرا ماجرا ہوا وقت یونہی گزر گیا وقت کے بعد کیا ہوا کیسا گزشتہ دن تھا جو پھر سے گزارنا پڑا دھوپ بھی تھی بچی ہوئی سایا بھی تھا بچا ہوا صبح کے ساتھ جائے کون شام کو لے کے آئے کون رات کا گھر بسائے کون ہے کوئی جاگتا ہوا ایک مکاں میں کچھ ہوا بات سنی نہ جا سکی لوگ ...

مزید پڑھیے

خواب کو خوش نما بناتے ہوئے

خواب کو خوش نما بناتے ہوئے رات گزری دیا بناتے ہوئے میرے لہجے سے خون رسنے لگا خامشی کو دعا بناتے ہوئے شہر کے شہر کر دئے مسمار اپنا خلوت‌ کدہ بناتے ہوئے اپنی سی خاک اڑا کے بیٹھ رہے اپنا سا قافلہ بناتے ہوئے زال دنیا کو کیا صفائی دیں کیا بنایا ہے کیا بناتے ہوئے خاک اور خون جمع ...

مزید پڑھیے

موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہے

موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہے مجھ سے آگے مرا طوفان کہاں جاتا ہے چائے کی پیالی میں تصویر وہی ہے کہ جو تھی یوں چلے جانے سے مہمان کہاں جاتا ہے میں تو جاتا ہوں بیابان نظر کے اس پار میرے ہمراہ بیابان کہاں جاتا ہے بات یونہی تو نہیں کرتا ہوں میں رک رک کر کیا بتاؤں کہ مرا دھیان کہاں ...

مزید پڑھیے

نقش تھا اور نام تھا ہی نہیں

نقش تھا اور نام تھا ہی نہیں یعنی میں اتنا عام تھا ہی نہیں خواب سے کام تھا وہاں کہ جہاں خواب کا کوئی کام تھا ہی نہیں سب خبر کرنے والوں پر افسوس یہ خبر کا مقام تھا ہی نہیں تہ بہ تہ انتقام تھا سر خاک انہدام انہدام تھا ہی نہیں ہم نے توہین کی قیام کیا اس سفر میں قیام تھا ہی نہیں اب ...

مزید پڑھیے

بولتے بولتے جب صرف زباں رہ گئے ہم

بولتے بولتے جب صرف زباں رہ گئے ہم تب اشارے سے بتایا کہ کہاں رہ گئے ہم ہمیں اتنی بڑی دنیا کا پتہ تھوڑی تھا جہاں ہم تم ہوا کرتے تھے وہاں رہ گئے ہم ہم مکاں بھی تھے مکیں بھی تھے کہ بازار تھا گرم پھر خسارہ ہوا اور صرف مکاں رہ گئے ہم دیر تک خالی مکاں خالی نہیں چھوڑتے ہیں آپ تب تھے ہی ...

مزید پڑھیے

کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا

کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا ایسی ناموجود کو دنیا کہا جاتا ہے کیا ہم سخن تیرے مخاطب کا پتا کیسے کروں بولنا تھا کیا تجھے اور بولتا جاتا ہے کیا ایک دروازہ اور اندر دور تک کوئی نہیں آتے جاتے جھانک لینے سے ترا جاتا ہے کیا اس اندھیرے میں پڑے اک شخص کو دیکھا کبھی پاؤں ...

مزید پڑھیے

غبار شام وصل کا بھی چھٹ گیا

غبار شام وصل کا بھی چھٹ گیا یہ آخری حجاب تھا جو ہٹ گیا حضوری و غیاب میں پڑا نہیں مجھے پلٹنا آتا تھا پلٹ گیا تری گلی کا اپنا ایک وقت تھا اسی میں میرا سارا وقت کٹ گیا خیال خام تھا سو چیخ اٹھا ہوں پھر مرا خیال تھا کہ میں نمٹ گیا ہمارے انہماک کا اڑا مذاق وہی ہوا نہ پھر ورق الٹ ...

مزید پڑھیے

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا پھر کہیں اپنی پریشانی کا اندازہ ہوا اے محبت تیرے دکھ سے دوستی آساں نہ تھی تجھ سا ہو کر تیری ویرانی کا اندازہ ہوا عمر بھر ہم نے فنا کے تجربے خود پر کئے عمر بھر میں عالم فانی کا اندازہ ہوا اک زمانے تک بدن بن خواب بن آداب تھے پھر اچانک اپنی ...

مزید پڑھیے

چار سمتوں میں نظر رکھتا ہوں میں چاروں پر

چار سمتوں میں نظر رکھتا ہوں میں چاروں پر تیر کب لوٹ کے آئیں گے کماں داروں پر صبح اٹھے تو قدم کوئلہ تھے اور ہم تھے نیند میں چلتے رہے ہجر کے انگاروں پر داستاں میں جہاں اک دائمی دن ہوتا تھا اب وہاں شام اتر آتی ہے کرداروں پر نقش عبرت کا سب اسباب اٹھایا خود ہی ہم نے یہ کام بھی چھوڑا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1023 سے 6203