قیمت نہیں رکھی قد و قامت نہیں رکھا
قیمت نہیں رکھی قد و قامت نہیں رکھا
ہم نے تو کوئی کار سیاست نہیں رکھا
اب معجزہ ہونے سے رہا تیرے بدن سے
ہم نے بھی مگر شوق رفاقت نہیں رکھا
کھل کر مرے بارے میں تری رائے نہیں تھی
تو نے ہی گلہ حسب روایت نہیں رکھا
آنکھوں کی طرح چھت بھی ٹپکتی رہی شب بھر
بارش نے مرا گھر بھی سلامت نہیں رکھا
کس نے ہمیں آوارگیٔ شہر عطا کی
کس نے ہمیں مصروف عبادت نہیں رکھا
اب خون پسینے کی کمائی نہیں ملتی
کیوں رزق مرا حسب لیاقت نہیں رکھا