Khumar Qureshi

خمار قریشی

خمار قریشی کے تمام مواد

12 غزل (Ghazal)

    کیا شکوہ کریں تہمت بے بال و پری کا

    کیا شکوہ کریں تہمت بے بال و پری کا ہر دن ہے شب زلف کی بیداد گری کا رہنے دو ابھی بام پہ کھلتی ہوئی آنکھیں منظر یہ مرے سامنے ہے خوش نظری کا اک ہاتھ بلاوے کے لئے روزن جاں میں اک ہاتھ علامت ہے کسی سبز پری کا احساس پشیمانیٔ احباب نہ پوچھو ہر ایک کو یاں غم ہے فقط بے ہنری کا دیوار و در ...

    مزید پڑھیے

    گھر میں کیسا شفقستاں کا سماں تھا پہلے

    گھر میں کیسا شفقستاں کا سماں تھا پہلے موج‌ صد رنگ میں بے خواب جہاں تھا پہلے کس کھنڈر میں ہمیں محبوس ہوا لے آئی شب کے سینے میں بھی محفوظ مکاں تھا پہلے بادباں کشتیاں پھر موج ہوا کی رونق کون کس حال میں اور کون کہاں تھا پہلے زینۂ شام پہ رکھا ہے چراغ خستہ جس کی رگ رگ میں رواں زرد ...

    مزید پڑھیے

    سمٹوں کہاں سے سطح پہ دریا رواں نہیں

    سمٹوں کہاں سے سطح پہ دریا رواں نہیں اٹھتا کہاں سے موج میں تاب و تواں نہیں تھمتا نفس نفس کے اشارے قدم قدم دوڑوں میں کیسے پاؤں میں ریگ رواں نہیں پرسان شب ستارے نہیں ہیں سر فلک شوریدہ سر خلاؤں بھرا آسماں نہیں اک رنج بے کنار تموج طلب کہاں اک لطف بے بہا سر دامن گراں نہیں کیا کہئے ...

    مزید پڑھیے

    زیست کا اک گناہ کر سکے نہ ہم

    زیست کا اک گناہ کر سکے نہ ہم سانس کے واسطے بھی مر سکے نہ ہم جانے کس وہم نے قدم پکڑ لئے اس کی دھند سے گزر سکے نہ ہم شہر کی وہ گلی سکوت پا گئی چار چھ دن سے جو گزر سکے نہ ہم گنجلک خواب کا مآل دیکھتے نیند کے غار میں اتر سکے نہ ہم اس طرف بھی کشادہ ہاتھ تھے خمارؔ دشت میں جس طرف بکھر سکے ...

    مزید پڑھیے

    اندھے رستوں پر پھیلاؤں ہاتھ کہاں

    اندھے رستوں پر پھیلاؤں ہاتھ کہاں میرے نصیبوں میں تاروں کی رات کہاں ڈالی ڈالی جگنو اور شرارے ہیں ریشم کے کیڑے کی یہ اوقات کہاں اس سے ملیں اور سکھ دکھ کی باتیں کر لیں اک طریق پہ رہتے ہیں حالات کہاں رات ہوئی اور نیند جزیرے میں پہنچی بے پتوار کی کشتی میں یہ بات کہاں پچھلا موسم بے ...

    مزید پڑھیے

تمام