حلقۂ شام و سحر سے نہیں جانے والا
حلقۂ شام و سحر سے نہیں جانے والا درد اس دیدۂ تر سے نہیں جانے والا پا بہ زنجیر نکالے گا سفر کی تدبیر طنطنہ فرق ہنر سے نہیں جانے والا تشنہ لب کو تو میسر نہیں اک جرعۂ آب بو الہوس لقمۂ تر سے نہیں جانے والا منقطع کرتے ہیں باغ و شجر و شاخ اسے ربط محنت کا ثمر سے نہیں جانے والا پر کشش ...