چاندنی میں رخ زیبا نہیں دیکھا جاتا
چاندنی میں رخ زیبا نہیں دیکھا جاتا ماہ و خورشید کو یکجا نہیں دیکھا جاتا یوں تو ان آنکھوں سے کیا کیا نہیں دیکھا جاتا ہاں مگر اپنا ہی جلوہ نہیں دیکھا جاتا دیدہ و دل کی تباہی مجھے منظور مگر ان کا اترا ہوا چہرہ نہیں دیکھا جاتا ضبط غم ہاں وہی اشکوں کا تلاطم اک بار اب تو سوکھا ہوا ...