شاعری

بنام عشق اک احسان سا ابھی تک ہے

بنام عشق اک احسان سا ابھی تک ہے وہ سادہ لوح ہمیں چاہتا ابھی تک ہے فقط زمان و مکاں میں ذرا سا فرق آیا جو ایک مسئلۂ درد تھا ابھی تک ہے شروع عشق میں حاصل ہوا جو دیر کے بعد وہ ایک صفر تہ حاشیہ ابھی تک ہے حلول کر چکی خود میں ہزار نقش و رنگ یہ کائنات جو خاکہ نما ابھی تک ہے طویل سلسلۂ ...

مزید پڑھیے

بس سلیقے سے ذرا برباد ہونا ہے تمہیں

بس سلیقے سے ذرا برباد ہونا ہے تمہیں اس خرابے میں اگر آباد ہونا ہے تمہیں آشنا تہذیب خاموشی سے ہونا شرط ہے دوستو گر واقعی فریاد ہونا ہے تمہیں وصل کی ساعت تمہارے قرب سے مجھ پر کھلا اک نہ اک دن ہجر کی میعاد ہونا ہے تمہیں عشق کرتے وقت میرے ذہن میں ہرگز نہ تھا شاعری میں اس طرح ایجاد ...

مزید پڑھیے

سن رکھا تھا تجربہ لیکن یہ پہلا تھا مرا

سن رکھا تھا تجربہ لیکن یہ پہلا تھا مرا جب کسی کے نام پر بے وجہ دل دھڑکا مرا اک اچٹتی سی نظر اس پر گئی اور یوں لگا کھو گیا جیسے کہیں حرف تمنا سا مرا عشق میں میں بھی بہت محتاط تھا سب جھوٹ ہے اور یہ ثابت کر گیا کل رات کا رونا مرا ایک حرف حق کی تا نوک زباں آمد مگر مصلحت خاموشی اور ...

مزید پڑھیے

وہ ایک لمحۂ رفتہ بھی کیا بلا لایا

وہ ایک لمحۂ رفتہ بھی کیا بلا لایا طویل قصہ ہے بتلاؤں کیا کہ کیا لایا جہاں کہیں بھی گیا ساتھ تھا غبار حیات کہاں سے خاک پریشاں یہ میں اٹھا لایا مرے نصیب میں تھا عشق جاوداں لکھا وگرنہ کیوں میں تری یاد کو بچا لایا کہیں بھی کچھ بھی بہ ترتیب تھا نہ واضح تھا بس ایک خاکۂ مبہم سا تھا ...

مزید پڑھیے

رگوں میں رات سے یہ خون سا رواں ہے کیا

رگوں میں آج بھی یہ خون سا رواں ہے کیا وہ درد عشق حقیقت میں جاوداں ہے کیا پرند کس لیے کرتے ہیں آشیاں سے کوچ انہیں بھی حاجت یک گوشۂ اماں ہے کیا یہ ہم جو چھوتے ہیں ہر روز چاند تاروں کو ہمارے پاؤں تلے کوئی آسماں ہے کیا ہوا میں کھیل رہا ہے جو ابر کی صورت کسی مکان سے اڑتا ہوا دھواں ہے ...

مزید پڑھیے

وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں

وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں بہت مغرور ہوتے جا رہے ہیں بس اک ترک محبت کے ارادے ہمیں منظور ہوتے جا رہے ہیں مناظر تھے جو فردوس تصور وہ سب مستور ہوتے جا رہے ہیں بدلتی جا رہی ہے دل کی دنیا نئے دستور ہوتے جا رہے ہیں بہت مغموم تھے جو دیدہ و دل بہت مسرور ہوتے جا رہے ہیں وفا پر مردنی ...

مزید پڑھیے

علی گڑھ چھوڑنے کے بعد

ہم نشیں رات کی مغموم خموشی میں مجھے دور کچھ دھیمی سی نغموں کی صدا آتی ہے جیسے جاتی ہوئی افسردہ جوانی کی پکار جس کو سن سن کے مری روح لرز جاتی ہے جیسے گھٹتی ہوئی موجوں کا اترتا ہوا شور مطربہ جیسے کوئی دور نکل جاتی ہے یا ہواؤں کا ترنم کسی ویرانے میں جیسے تنہائی میں دوشیزہ کوئی گاتی ...

مزید پڑھیے

زلزلہ

ایک شب ہلکی سی جنبش مجھے محسوس ہوئی میں یہ سمجھا مرے شانوں کو ہلاتا ہے کوئی آنکھ اٹھائی تو یہ دیکھا کہ زمیں ہلتی ہے جس جگہ شے کوئی رکھی ہے وہیں ہلتی ہے صحن و دیوار کی جنبش ہے تو در ہلتے ہیں باہر آیا تو یہ دیکھا کہ شجر ہلتے ہیں کوئی شے جنبش پیہم سے نہیں ہے محروم ایک طاقت ہے پس پردہ ...

مزید پڑھیے

ان کی تصویر دیکھ کر

آج کیا ہے جو ملا شوخ نگاہوں کو قرار؟ کیا ہوا حسن کی معصوم حیاؤں کا وقار آج کیوں تم مجھے دیکھے ہی چلے جاتے ہو؟ دفعتاً ٹوٹ گیا کس لیے بجتا ہوا ساز کیا ہوئے نغمے وہ اب کیوں نہیں آتی آواز آج ہونٹوں پہ خموشی ہی خموشی کیوں ہے؟ خوب تدبیر نکالی ہے منانے کی مجھے آتش سوز محبت میں جلانے کی ...

مزید پڑھیے

اک شہنشاہ نے بنوا کے۔۔۔۔

اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے اس کے سائے میں سدا پیار کے چرچے ہوں گے ختم جو ہو نہ سکے گی وہ کہانی دی ہے اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل تاج وہ شمع ہے الفت کے صنم خانے کی جس کے پروانوں میں مفلس بھی ہیں زردار بھی ہیں سنگ مرمر میں سمائے ہوئے خوابوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 875 سے 5858