شاعری

جو اس برس نہیں اگلے برس میں دے دے تو

جو اس برس نہیں اگلے برس میں دے دے تو یہ کائنات مری دسترس میں دے دے تو سکون چاہتا ہوں میں سکون چاہتا ہوں کھلی فضا میں نہیں تو قفس میں دے دے تو یہ کیا کہ حرف دعا پہ بھی برف جمنے لگی کوئی سلگتا شرارہ نفس میں دے دے تو میں دونوں کام میں مشاق ہوں مگر مجھ کو ذرا تمیز تو عشق و ہوس میں دے ...

مزید پڑھیے

یاد کی بستی کا یوں تو ہر مکاں خالی ہوا

یاد کی بستی کا یوں تو ہر مکاں خالی ہوا بس گیا تھا جو خلا سا وہ کہاں خالی ہوا رات بھر اک آگ سی جلتی رہی تھی آنکھ میں اور پھر دن بھر مسلسل اک دھواں خالی ہوا خودبخود اک دشت نے تشکیل پائی اور پھر لمحہ بھر میں ایک شہر بیکراں خالی ہوا آج جب اس لطف سایہ کی ضرورت تھی ہمیں کم نصیبی یہ کہ ...

مزید پڑھیے

ہمارے ذہن میں یہ بات بھی نہیں آئی

ہمارے ذہن میں یہ بات بھی نہیں آئی کہ تیری یاد ہمیں رات بھی نہیں آئی بچھڑتے وقت جو گرجے وہ کیسے بادل تھے یہ کیسا ہجر کہ برسات بھی نہیں آئی تجھے نہ پا سکے ہم اس کا اک سبب یہ ہے پلٹ کے گردش حالات بھی نہیں آئی ہوا یوں ہاتھ سے بازی نکل گئی اک روز ہمارے حصے میں پھر مات بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

میں نہیں روتا ہوں اب یہ آنکھ روتی ہے مجھے

میں نہیں روتا ہوں اب یہ آنکھ روتی ہے مجھے روتی ہے اور سر سے پاؤں تک بھگوتی ہے مجھے بد دعا ہے جانے کس کی یاد کی جو ہر گھڑی ہر گزشتہ لمحے سے وحشت سی ہوتی ہے مجھے ممکنہ حد تک میں اپنی دسترس میں ہوں مگر پچھلے کچھ دن سے کوئی شے مجھ میں کھوتی ہے مجھے مطمئن تھا دن کے بکھراؤ سے میں لیکن ...

مزید پڑھیے

تو کیا تڑپ نہ تھی اب کے مرے پکارے میں

تو کیا تڑپ نہ تھی اب کے مرے پکارے میں وگرنہ وہ تو چلا آتا تھا اشارے میں وہ بات اس کو بتانا بہت ضروری تھی وہ بات کس لیے کہتا میں استعارے میں مدام ہجر کدے میں وہ یاد روشن ہے کہاں ہے اے دل ناکام تو خسارے میں مرے علاوہ سبھی لوگ اب یہ مانتے ہیں غلط نہیں تھی مری رائے اس کے بارے ...

مزید پڑھیے

فضا ہوتی غبار آلودہ سورج ڈوبتا ہوتا

فضا ہوتی غبار آلودہ سورج ڈوبتا ہوتا یہ نظارہ بھی دل کش تھا اگر میں تھک گیا ہوتا ندامت ساعتیں آئیں تو یہ احساس بھی جاگا کہ اپنی ذات کے اندر بھی تھوڑا سا خلا ہوتا گزشتہ روز و شب سے آج بھی اک ربط سا کچھ ہے وگرنہ شہر بھر میں مارا مارا پھر رہا ہوتا عجب سی نرم آنکھیں گندمی آواز ...

مزید پڑھیے

عنایت ہے تری بس ایک احسان اور اتنا کر

عنایت ہے تری بس ایک احسان اور اتنا کر مرے اس درد کی میعاد میں بھی کچھ اضافہ کر گماں سے بھی زیادہ چاہئے سرسبز کشت جاں فقط پچھلے پہر کیا ہر پہر اے آنکھ برسا کر تو پھر اکرام کیا شے ہے جو تنہائی میں تنہا ہوں کوئی محفل عطا کر قاعدے کی اس میں تنہا کر نفس کی آمد و شد رک نہ جائے پیشتر اس ...

مزید پڑھیے

بہ راہ راست نہیں پھر بھی رابطہ سا ہے

بہ راہ راست نہیں پھر بھی رابطہ سا ہے وہ جیسے یاد مضافات میں چھپا سا ہے کبھی تلاش کیا تو وہیں ملا ہے وہ نفس کی آمد و شد میں جہاں خلا سا ہے یہ تارے کس لیے آنکھیں بچھائے بیٹھے ہیں ہمیں تو جاگتے رہنے کا عارضہ سا ہے یہ کائنات اگر ویسی ہو تو کیا ہوگا ہمارے ذہن میں خاکہ جو اک بنا سا ...

مزید پڑھیے

رقاصۂ حیات سے

پھولوں پہ رقص اور نہ بہاروں پہ رقص کر گلزار ہست و بود میں خاروں پہ رقص کر ہو کر جمود گلشن جنت سے بے نیاز دوزخ کے بے پناہ شراروں پہ رقص کر شمع سحر فسون تبسم، حیات گل فطرت کے ان عجیب نظاروں پہ رقص کر تنظیم کائنات جنوں کی ہنسی اڑا اجڑے ہوئے چمن کی بہاروں پہ رقص کر سہمی ہوئی صدائے دل ...

مزید پڑھیے

کہاں ہے آ جا

راحت بندۂ بے دام کہاں ہے آ جا پیکر حسن سر بام کہاں ہے آ جا رونق بزم ہے او جام کہاں ہے آ جا زینت جلوہ گہ عام کہاں ہے آ جا اے امید دل نا کام کہاں ہے آ جا تیری فرقت خلل انداز سکون پیہم تیری فرقت دل مایوس پہ اک طرفہ ستم تیری فرقت سبب کاوش و بیداریٔ غم تو نہیں ہے تو پھر آرام کہاں ہے آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 874 سے 5858