شاعری

تیری نظروں میں تو ابرو میں کماں ڈھونڈتا ہوں

تیر نظروں میں تو ابرو میں کماں ڈھونڈتا ہوں اس کی آنکھوں میں گئی رت کے نشاں ڈھونڈتا ہوں نشۂ قرب سے بڑھ کر ہے تری کھوج مجھے تو جہاں مل نہ سکے تجھ کو وہاں ڈھونڈتا ہوں تازہ وارد ہوں میاں اور یہ شہر دل ہے کچھ کمانے کو یہاں کار زیاں ڈھونڈتا ہوں شک کی بے سمت مسافت ہی مجھے مار نہ دے جو ...

مزید پڑھیے

مجھ کو ترے خیال سے وحشت کبھی نہ تھی

مجھ کو ترے خیال سے وحشت کبھی نہ تھی اس درجہ بے ادب یہ طبیعت کبھی نہ تھی حد ہے اسی کے پاس ہے کردار کی سند جس کی تمام شہر میں عزت کبھی نہ تھی یارو دعا کرو یہ کوئی حادثہ نہ ہو پہلے یوں انتظار میں لذت کبھی نہ تھی یا تو جفائیں آپ کی حد سے گزر گئیں یا پھر ہمیں سزاؤں کی عادت کبھی نہ ...

مزید پڑھیے

گردش میں زہر بھی ہے مسلسل لہو کے ساتھ

گردش میں زہر بھی ہے مسلسل لہو کے ساتھ مرتا بھی جا رہا ہوں میں اپنی نمو کے ساتھ جن موسموں میں تیری رفاقت تھی ناگزیر تو نے رتیں بنائی ہیں وہ بھی عدو کے ساتھ مجھ کو عطا ہوا ہے یہ کیسا لباس زیست بڑھتے ہیں جس کے چاک برابر رفو کے ساتھ مجھ کو وہی ملا مجھے جس کی طلب نہ تھی مشروط کچھ نہیں ...

مزید پڑھیے

انجانے جزیروں پر

قدم رکھنے سے پہلے جان لو کہ بے آباد جگہ آسیب زدہ بھی ہو سکتی ہے بستی بسانے سے پہلے جن کی خوش نودی لازم آتی ہے بسے رہنے کا معاوضہ کلابتونی پہنا دے زرق چڑھاوے مرصع کندنی پرنیاں ہیں اشرفی بوٹی والے کمخواب کا سربار بھی ادا کرنا ہوتا ہے ورنہ ان کے اسلوب حیات سے انحراف العقارب ...

مزید پڑھیے

بے نوا

وقت کی تند و تیز موجیں میرے چاروں جانب بہتی رہیں اور میں بہ رغبت و رضا اس کی ہر جگر پاش چوٹ سہتی رہی ایک مبہم سی آس کے سہارے کہ شاید کبھی بے مہر ساحل میرا ہم نوا ہو جائے

مزید پڑھیے

بوگن ویلیا کی وارفتگی دیکھ کر

تناور پیڑ کھجور سے وارفتگی یوں کہ جیسے اس کی توانائی تیری قوت کی ضامن ہو بے ساختہ بالیں ہوتی یوں کہ محفوظ ہوتی موسموں کی جولانیوں سے تودا سوخت نہ سہی مگر تیری فرو ماندگی لرزاں و جھلسی تازگی بزبان خود مستفتی ہوئی یوں کہ فضیلت کفالت کو ہے محض تونگری کو نہیں بالادستی فرضیت کی بجا ...

مزید پڑھیے

صبائے صحرا

بے داغ وسعتوں کی آہوئے بے باک تیرے ایک ہی مشک بیز جھونکے نے یادوں کے دریچے کھول دیے ہیں جھلستی دوپہروں میں گھنے پیپل کی چھاؤں میں جھولا جھولتی ہم جولیاں خوش گلو چاڑھے کی آواز میں ریگ زاروں کے گیت کن رس ہوئے جاتے ہیں برسات کی آبنوسی رات کا منظر کھلے آسمان تلے بان کی ٹھنڈی چارپائی ...

مزید پڑھیے

کٹ نہ پائے یہ فاصلے بھی اگر

کٹ نہ پائے یہ فاصلے بھی اگر اور اس پر یہ رابطے بھی اگر جو تمہاری طرف نہیں کھلتے بند نکلے وہ راستے بھی اگر خیر ہو تیری بے نیازی کی اب نہیں خود پرست تھے بھی اگر کیا کریں گے سوائے خواہش کے مہلت یک نفس ملے بھی اگر عمر بھر کے زیاں کا مول نہیں چند لمحے چرا لیے بھی اگر خوں بہا کون دے ...

مزید پڑھیے

حاصل عمر ہے جو ایک کسک باقی ہے

حاصل عمر ہے جو ایک کسک باقی ہے میری سانسوں میں ابھی تیری مہک باقی ہے مجھ سے کیا چھین سکا تو کہ ابھی تک میرے پاؤں کے نیچے زمیں سر پہ فلک باقی ہے پھر تجھے اور مجھے اور کہیں جانا ہے ہم سفر ساتھ تو چل جتنی سڑک باقی ہے یہ کوئی کم تو نہیں دوست جدا ہو کر بھی اپنے لہجے میں شکایت کی جھلک ...

مزید پڑھیے

اس گھر میں مرے ساتھ بسر کر کے تو دیکھو

اس گھر میں مرے ساتھ بسر کر کے تو دیکھو ٹوٹی ہوئی کشتی میں سفر کر کے تو دیکھو دھرتی سے بچھڑنے کی سزا کہتے ہیں کس کو طوفاں میں جزیروں پہ نظر کر کے تو دیکھو خوابوں کو صلیبوں پہ سجا پاؤ گے ہر سو آنکھوں کے بیاباں سے گزر کر کے تو دیکھو ممکن ہے کہ نیزے پہ اٹھا لے کوئی بڑھ کر مقتل کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 842 سے 5858