تیری نظروں میں تو ابرو میں کماں ڈھونڈتا ہوں
تیر نظروں میں تو ابرو میں کماں ڈھونڈتا ہوں اس کی آنکھوں میں گئی رت کے نشاں ڈھونڈتا ہوں نشۂ قرب سے بڑھ کر ہے تری کھوج مجھے تو جہاں مل نہ سکے تجھ کو وہاں ڈھونڈتا ہوں تازہ وارد ہوں میاں اور یہ شہر دل ہے کچھ کمانے کو یہاں کار زیاں ڈھونڈتا ہوں شک کی بے سمت مسافت ہی مجھے مار نہ دے جو ...