روز شام ہوتی ہے روز ہم سنورتے ہیں
روز شام ہوتی ہے روز ہم سنورتے ہیں پھول سیج کے یوں ہی سوکھتے بکھرتے ہیں دل کو توڑنے والے تو کہیں نہ رسوا ہو خیر تیرے دامن کی چشم تر سے ڈرتے ہیں صبح ٹوٹ جاتا ہے آئینہ تصور کا رات بھر ستاروں سے اپنی مانگ بھرتے ہیں زور اور کیا چلتا فصل گل میں کیا کرتے بس یہی کہ دامن کو تار تار کرتے ...