شاعری

روز شام ہوتی ہے روز ہم سنورتے ہیں

روز شام ہوتی ہے روز ہم سنورتے ہیں پھول سیج کے یوں ہی سوکھتے بکھرتے ہیں دل کو توڑنے والے تو کہیں نہ رسوا ہو خیر تیرے دامن کی چشم تر سے ڈرتے ہیں صبح ٹوٹ جاتا ہے آئینہ تصور کا رات بھر ستاروں سے اپنی مانگ بھرتے ہیں زور اور کیا چلتا فصل گل میں کیا کرتے بس یہی کہ دامن کو تار تار کرتے ...

مزید پڑھیے

جو شخص مدتوں مرے شیدائیوں میں تھا

جو شخص مدتوں مرے شیدائیوں میں تھا آفت کے وقت وہ بھی تماشائیوں میں تھا اس کا علاج کوئی مسیحا نہ کر سکا جو زخم میری روح کی گہرائیوں میں تھا وہ تھے بہت قریب تو تھی گرمئ حیات شعلہ ہجوم شوق کا پروائیوں میں تھا کوئی بھی ساز ان کی تڑپ کو نہ پا سکا وہ سوز وہ گداز جو شہنائیوں میں ...

مزید پڑھیے

گرد مجنوں لے کے شاید باد صحرا جائے ہے

گرد مجنوں لے کے شاید باد صحرا جائے ہے جانے کس وحشت میں بستی کو بگولہ جائے ہے میں نہ کہتا تھا کہ لازم ہے نگہ بھر فاصلہ جب بہت نزدیک ہو تو عکس دھندلا جائے ہے کیا کروں اے تشنگی تیرا مداوا بس وہ لب جن لبوں کو چھو کے پانی آگ بنتا جائے ہے خوف کا مفہوم پہلی بار سمجھا عشق میں بات ہوتی ...

مزید پڑھیے

جز نہال آرزو سینے میں کیا رکھتا ہوں میں

جز نہال آرزو سینے میں کیا رکھتا ہوں میں کوئی بھی موسم ہو یہ پودا ہرا رکھتا ہوں میں ورنہ کیا بندھن ہے ہم میں کون سی زنجیر ہے بس یونہی تجھ پر مری جاں مان سا رکھتا ہوں میں کار دنیا کو بھی کار عشق میں شامل سمجھ اس لیے اے زندگی تیری پتہ رکھتا ہوں میں میں کسی مشکل میں تجھ کو دیکھ سکتا ...

مزید پڑھیے

تنہائی

یاد کی کرنیں پریاں بن کر اپنی باہوں میں لپٹا کر تیرا چاند سا سندر مکھڑا سوچوں کے بے نور کھنڈر میں در آتی ہیں اور میں سوچ کے تپتے تھل میں تیرے ساتھ گزاری شامیں ایک اک کر کے گنتا ہوں جب میں تنہا ہوتا ہوں

مزید پڑھیے

شام مری کمزوری ہے

مت پوچھ یہ مجھ سے دوست مرے کیوں شام ڈھلے ان آنکھوں میں بے نام سی ایک اداسی کی گھنگھور گھٹائیں رہتی ہیں کیوں بے خود ہو کر اس لمحے ڈھلتا ہوا سورج تکتا ہوں آنکھوں میں کسی کا عکس لیے کیوں بدن کتابیں تکتا ہوں مت پوچھ یہ وقت ہی ایسا ہے مجھے دل پر زور نہیں رہتا میں لاکھ چھپاتا ہوں ...

مزید پڑھیے

ہر نقش ادھورا ہے

ڈھلتے ہوئے سورج کی اب آخری ہچکی ہے پت جھڑ کی اداسی میں بے برگ درختوں کی ہر اجڑی ہوئی ٹہنی سورج کے جنازے کو کاندھوں پہ اٹھائے ہے اس وقت مرا دل بھی بالکل ہے فلک جیسا ٹھہرے ہوئے اک پل میں ڈھلتا ہوا سورج ہے اس وقت محبت کا ہر نقش ادھورا ہے

مزید پڑھیے

آسماں تھا تم تھے یا میرا ستارا کون تھا

آسماں تھا تم تھے یا میرا ستارا کون تھا میری ہر منزل مسافت سے بدلتا کون تھا بس یونہی اک ضد میں ساری زندگی برباد کی جانتا ہوں روگ کیا تھے اور مداوا کون تھا ہر قدم تازہ کمک ملتی رہی اپنے خلاف میرا اپنا ہی عدو میرے علاوہ کون تھا کیا کسی امید پر پھر سے در دل وا کروں تجھ سے بڑھ کر خود ...

مزید پڑھیے

جاں کے زیاں کو غم کی تلافی سمجھ لیا

جاں کے زیاں کو غم کی تلافی سمجھ لیا کم حوصلوں نے موت کو شافی سمجھ لیا جو گفتگو میں سب سے ضروری تھا وہ سخن ان کی سماعتوں نے اضافی سمجھ لیا اک شرط جستجو بھی تھی منزل کے واسطے ہم نے بس آرزو کو ہی کافی سمجھ لیا خوددارئ جنوں میں ان آنکھوں نے تیرے بعد اشکوں کو بھی وفا کے منافی سمجھ ...

مزید پڑھیے

نگاہ و دل کے تمام رشتے فضائے عالم سے کٹ گئے ہیں

نگاہ و دل کے تمام رشتے فضائے عالم سے کٹ گئے ہیں جدائیوں کے عذاب موسم بساط ہستی الٹ گئے ہیں وہ جس کی یادوں سے شاعری کا ہر ایک مصرعہ سجایا ہم نے کتاب جاں کے تمام صفحے اسی کے ہاتھوں سے پھٹ گئے ہیں یہاں پہ کچھ بھی نہیں ہے باقی تو عکس اپنا تلاش مت کر مری نگاہوں کے آئنے اب غبار فرقت سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 841 سے 5858