شاعری

یاد تم آئے تو پھر بن گئیں بادل آنکھیں

یاد تم آئے تو پھر بن گئیں بادل آنکھیں دل کے ویرانے کو کرنے لگیں جل تھل آنکھیں میری آنکھوں کا کوئی ابر سے رشتہ ہے ضرور ٹوٹ کے برسی گھٹا جب ہوئیں بوجھل آنکھیں خواب کو خواب سمجھتی ہی نہیں جانے کیوں ڈھونڈھتی رہتی ہیں اک شخص کو پاگل آنکھیں کیسا رشتہ ہے تعلق ہے یہ کیسا آخر چوٹ تو دل ...

مزید پڑھیے

دل کی کہانیوں کو نیا موڑ کیوں دیا

دل کی کہانیوں کو نیا موڑ کیوں دیا رشتوں کے ٹوٹے شیشے کو پھر جوڑ کیوں دیا دہلیز پر جلا کے سر شام اک چراغ دروازہ تم نے گھر کا کھلا چھوڑ کیوں دیا گلدان میں سجے ہوئے نقلی گلاب پر اک بد حواس تتلی نے دم توڑ کیوں دیا طوفاں سے لڑ رہا تھا وہ ساحل کے واسطے ساحل ملا تو ناؤ کا رخ موڑ کیوں ...

مزید پڑھیے

پلکوں پہ لرزتے رہے آنسو کی طرح ہم

پلکوں پہ لرزتے رہے آنسو کی طرح ہم گھر میں ترے مہکا کئے خوشبو کی طرح ہم سورج کے لئے چھوڑا تھا اس نے ہمیں پھر بھی راتوں کو ستاتے رہے جگنو کی طرح ہم آتے رہے جاتے رہے کشتی کے مسافر پیروں سے لپٹتے رہے بالو کی طرح ہم ریکھا ہے کھنچی اور نہ ہے سیتا کوئی گھر میں اس شہر میں کیوں پھرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

بقائے محبت

در دیوار اور دریچے ایک معاہدہ ہیں عدم‌ مداخلت کا مشروط معاہدہ دو مہذب انسانوں کے درمیاں دو متمدن خاندانوں کے درمیاں دیوار تہذیب کی ترجمان تمدن کی پہچان اور بقائے باہمی کی آئینہ دار حیلہ حقوق کی ضمانت بقائے تحیت کی علامت حیط اور احاطہ ذہنی و جسمانی آسودگی اور سکھ چین کے لیے ...

مزید پڑھیے

انتباہ

گاڑی کھینچنا اور چلاتے رکھنا دو مختلف رو میں باہم ربط و راہ کے نشیب و فراز رفتار کو متأثر کرتے ہیں مزاحمت کی صورت میں بریک لگانے میں ہی عافیت ہے کیونکہ مد مقابل کو اپنی رفتار پر قابو نہیں اگرچہ آپ کو تو اپنی جان عزیز ہے رفتار پر کنٹرول کا رویہ زندگی کو سہل اور آسان بناتا ہے اور ...

مزید پڑھیے

کسی کی آنکھ سے آنسو ٹپک رہے ہوں گے

کسی کی آنکھ سے آنسو ٹپک رہے ہوں گے تمام شہر میں جگنو چمک رہے ہوں گے چھپا کے رکھے ہیں کپڑوں کے بیچ میں اس نے مرے خطوط یقیناً مہک رہے ہوں گے کھلی ہے دھوپ کئی دن کے بعد آنگن میں پھر الگنی پہ دوپٹے لٹک رہے ہوں گے وہ چھت پہ بال سکھانے کو آ گئی ہوگی نہ جانے اب کہاں بادل بھٹک رہے ہوں ...

مزید پڑھیے

زندگی یوں تو بہت عیار تھی چالاک تھی

زندگی یوں تو بہت عیار تھی چالاک تھی موت نے چھو کر جو دیکھا ایک مٹھی خاک تھی جاگتی آنکھوں کے سپنے دل نشیں تو تھے مگر میرے ہر اک خواب کی تعبیر ہیبت ناک تھی آج کانٹے بھی چھپائے ہیں لبادوں میں بدن اک زمانے میں تو فصل گل بھی دامن چاک تھی تھا ہمیں بھی ہر قدم پہ ناک کٹ جانے کا ڈر ان ...

مزید پڑھیے

سنگ مجنوں پہ لڑکپن میں اٹھایا کیوں تھا

سنگ مجنوں پہ لڑکپن میں اٹھایا کیوں تھا یاد غالب کی طرح سر مجھے آیا کیوں تھا بات اب یہ نہیں کیوں چھوڑا تھا اس نے مجھ کو بات تو یہ ہے کہ وہ لوٹ کے آیا کیوں تھا کتنے معصوم صفت لوگ تھے سمجھے ہی نہیں اس نے پر توڑ کے تتلی کو اڑایا کیوں تھا جس کے ہاتھوں میں نظر آتے تھے پتھر کل تک اس نے ...

مزید پڑھیے

مجھ کو ترے سلوک سے کوئی گلہ نہ تھا

مجھ کو ترے سلوک سے کوئی گلہ نہ تھا زہر اب پی رہا تھا مگر لب کشا نہ تھا کانٹوں سے جسم چھلنی ہے میرا اسی لئے پھولوں سے پیار کرنے کا کچھ تجربہ نہ تھا لاکھوں تماش بین ہیں اور ہم صلیب پر اک وقت وہ تھا کوئی ہمیں دیکھتا نہ تھا کیا جانے اس کی آنکھ میں کیوں اشک آ گئے چہرے پہ میرے کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

پیار میں اس نے تو دانستہ مجھے کھویا تھا

پیار میں اس نے تو دانستہ مجھے کھویا تھا جانے کیوں پھر وہ اکیلے میں بہت رویا تھا اس کو بھی نیند نہیں آئی بچھڑ کر مجھ سے آخری بار وہ بانہوں میں مری سویا تھا میرے اشکوں میں رہا وہ بھی برابر کا شریک میں نے یہ بوجھ اکیلے ہی نہیں ڈھویا تھا رات بھر تجھ کو سناتا رہا میرا قصہ رات بھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 843 سے 5858