شاعری

زیر زمیں دبی ہوئی خاک کو آساں کہو

زیر زمیں دبی ہوئی خاک کو آساں کہو حرف خراب و خستہ کو ضد ہے کہ داستاں کہو آب سیاہ پھیر دو باب وفا کے نقش پر شہر انا میں جب کبھی قصۂ دیگراں کہو کون شریک درد تھا آتش سرد کے سوا راکھ حقیر تھی مگر راکھ کو مہرباں کہو دور خلا کے دشت میں مثل شرار ثبت ہیں کس نے انہیں خفا کیا کیوں ہوئے بد ...

مزید پڑھیے

وہ جو تم نے نام خدا لیا سبھی رنجشوں کو بھلا دیا (ردیف .. ن)

وہ جو تم نے نام خدا لیا سبھی رنجشوں کو بھلا دیا مجھے اب یقین یہ آ گیا کہ زمانہ اتنا برا نہیں اسے کب ہمارا خیال ہے مرے دل کو کیوں یہ ملال ہے کبھی اس نے ایسا کہا نہیں کبھی ہم نے ایسا سنا نہیں نہ رقیب ہے نہ حبیب ہے مرا اس سے رشتہ عجیب ہے وہ ملے تو دل کو سکوں ملے نہ ملے تو کوئی گلہ ...

مزید پڑھیے

ابھی اس تک کہاں پہنچا سمندر

ابھی اس تک کہاں پہنچا سمندر وہ اپنی ذات میں ایسا سمندر زمیں اوڑھے ہے میری سبز چادر مرے آنچل میں ہے نیلا سمندر مجھے بادل کی محمل میں بٹھا کے تمہارے شہر تک لایا سمندر مرا پیرایۂ اظہار دیکھیں میں ہوں مٹی ہوا شعلہ سمندر مجھے محدود ذہنوں سے شکایت بہت اچھا لگا پھیلا سمندر محبت ...

مزید پڑھیے

وہی بے یقینی کی ہے فضا وہی گرد باد شمال ہے

وہی بے یقینی کی ہے فضا وہی گرد باد شمال ہے میں چراغ جاں ہوں لیے ہوئے وہی شام شہر ملال ہے وہ مسافتیں بھی گزر گئیں کہ دعا کے پھول تھے ہاتھ میں یہ محبتوں کا دیار ہے یہی میرا مال و منال ہے ترے حرف حرف میں رمز ہے تری گفتگو بھی کمال ہے کبھی مل کے تجھ سے خوشی ملی کبھی تو ہی وجہ ملال ...

مزید پڑھیے

جب بھی وہ آسماں جناب آئے

جب بھی وہ آسماں جناب آئے سایہ کرتا ہوا سحاب آئے حرف مٹنے لگے ہیں ذہنوں سے پھر کوئی صاحب کتاب آئے جب کو ڈوبے ہوئے زمانہ ہوا یاد کچھ ایسے آفتاب آئے زندگی بحر بیکراں ہی سہی ہم تو بس صورت حباب آئے جیسے خالی مکاں پہ دستک ہو در و دیوار سے جواب آئے ورق زندگی پلٹتے رہے کامرانی کا ...

مزید پڑھیے

اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ پا ہے

اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ پا ہے دل آٹھ پہر اپنی حدیں ڈھونڈ رہا ہے احساس کی وادی میں کوئی صوت نہ صورت یہ منزل عرفان تک آنے کا صلہ ہے زخموں کے بیاباں میں کوئی پھول نہ پتھر یادوں کے جزیرے میں نہ بت ہیں نہ خدا ہے اک خاک کے پیکر کا تماشہ ہے سڑک پر ہر شخص یہاں قہر کی تصویر بنا ہے مٹی ...

مزید پڑھیے

شام کے ساحل پہ سورج کا سفینہ آ لگا

شام کے ساحل پہ سورج کا سفینہ آ لگا ڈوبتی آنکھوں کو یہ منظر بہت اچھا لگا درد کے پتھر سبھی آب رواں میں گھل گئے شور تھا کتنا مگر آنکھوں کو سناٹا لگا چار سو پھیلی ہوئی موج نفس کی گونج تھی مجھ کو پیاسی ریت کا صحرا بھی اک دریا لگا ان گنت سائے تری تصویر میں ڈھلتے گئے چاندنی جاگی تو ہر ...

مزید پڑھیے

طلسم ہے کہ تماشا ہے کائنات اس کی

طلسم ہے کہ تماشا ہے کائنات اس کی چراغ ہجر سے روشن رہے گی رات اس کی زمین ہو کہ زماں سب اسی کے مہرے ہیں بچھی ہوئی ہے بہت دور تک بساط اس کی ہمارے ساتھ بھی ہوتے ہیں تجربے اس کے ہمارے حال میں شامل ہے واردات اس کی شکست و فتح میں کیا فرق ہے نہیں معلوم یہ کیا کہ جیت ہماری ہے اور مات اس ...

مزید پڑھیے

تمہارے چاک پر اے کوزہ گر لگتا ہے ڈر ہم کو

تمہارے چاک پر اے کوزہ گر لگتا ہے ڈر ہم کو عجب پاگل سی اک پرچھائیں آتی ہے نظر ہم کو یہ کیسی بات ہے دن کی گھڑی ہے اور اندھیرا ہے چمکتی دھوپ میں سونا پڑا ہے رات بھر ہم کو ہمیں گھر سے نکالا تھا تو یہ بھی سوچ لینا تھا کہ صاحب پھر کبھی آنا نہیں ہے لوٹ کر ہم کو ابھی تھوڑا سا شاید اور کچھ ...

مزید پڑھیے

ہجر کا قصہ بہت لمبا نہیں بس رات بھر ہے

ہجر کا قصہ بہت لمبا نہیں بس رات بھر ہے ایک سناٹا مگر چھایا ہوا احساس پر ہے اک سمندر بے حسی کا ایک کشتی آرزو کی ہائے کتنی مختصر لوگوں کی روداد سفر ہے میں ازل سے چل رہا ہوں تھک گیا ہوں سوچتا ہوں کیا تری دنیا میں ہر منزل نشان رہ گزر ہے اس فصیل غم کو سر کرنے پہ بھی کیا مل سکے گا ایک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 820 سے 5858