شاعری

سفر نصیب اگر ہو تو یہ بدن کیوں ہے

سفر نصیب اگر ہو تو یہ بدن کیوں ہے دیار غیر تمہارے لئے وطن کیوں ہے ہوائے شبنم و گل ہے تو بے خودی کیسی حصار ذات میں آشوب ما و من کیوں ہے بس ایک عکس نظارہ ہے انکشاف وجود کلاہ شیشہ گراں میں یہ بانکپن کیوں ہے نشاط بے طلبی جادۂ نجات ہوا خبر نہیں کہ اسی راہ میں چمن کیوں ہے لباس خاک شفق ...

مزید پڑھیے

کئی راتوں سے بس اک شور سا کچھ سر میں رہتا ہے

کئی راتوں سے بس اک شور سا کچھ سر میں رہتا ہے کہ وہ بت بھی نہیں پھر کس طرح پتھر میں رہتا ہے وہاں صحرا بھی ہے جنگل بھی دریا بھی چٹانیں بھی عجب دنیا بسا رکھی ہے وہ جس گھر میں رہتا ہے کھلے گی دھوپ جب پرچھائیاں پیڑوں سے نکلیں گی یہ منظر بھی اسی سمٹے ہوئے منظر میں رہتا ہے بلند و پست کی ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شور سا زنداں میں رات بھر کیا تھا

وہ ایک شور سا زنداں میں رات بھر کیا تھا مجھے خود اپنے بدن میں کسی کا ڈر کیا تھا کوئی تمیز نہ کی خون کی شرارت نے اک ابر او باد کا طوفاں تھا دشت و در کیا تھا زمیں پہ کچھ تو ملا چند الجھنیں ہی سہی کوئی نہ جان سکا آسمان پر کیا تھا مرے زوال کا ہر رنگ تجھ میں شامل ہے تو آج تک مری حالت سے ...

مزید پڑھیے

اس طرح عشق میں برباد نہیں رہ سکتے

اس طرح عشق میں برباد نہیں رہ سکتے اتنے قصے تو ہمیں یاد نہیں رہ سکتے ہم محبت کے خرابوں کے مکیں ہیں پھر بھی عمر بھر مائل فریاد نہیں رہ سکتے آپ ہی آپ کھنچے جاتے ہیں اپنی جانب لوگ چاہیں بھی تو آزاد نہیں رہ سکتے ایک آواز سی آتی ہے عجب کانوں میں شہر اب دیر تک آباد نہیں رہ سکتے

مزید پڑھیے

شعلہ شعلہ تھی ہوا شیشۂ شب سے پوچھو

شعلہ شعلہ تھی ہوا شیشۂ شب سے پوچھو یا مرا حال مری تاب طلب سے پوچھو جانے کس موڑ پہ ان آنکھوں نے موتی کھوئے بستیاں دید کی ویران ہیں کب سے پوچھو راستے لوگوں کو کس سمت لیے جاتے ہیں کیا خبر کون بتا پائے گا سب سے پوچھو دن نکلتے ہی ستاروں کے سفینے ڈوبے دل کے بجھنے کا سبب موج طرب سے ...

مزید پڑھیے

سمجھ سکے نہ جسے کوئی بھی سوال ایسا

سمجھ سکے نہ جسے کوئی بھی سوال ایسا بنا ہے سانس کے دھاگوں نے ایک جال ایسا کبھی دماغ تھا مجھ کو بھی خود پرستی کا پلٹ کے ذہن میں آیا نہ پھر خیال ایسا میں آسماں تو نہ تھا جس میں چاند چھپ جاتے ہوا نہ ہوگا کسی کا کبھی زوال ایسا تمام عمر نئے لفظ کی تلاش رہی کتاب درد کا مضموں تھا پائمال ...

مزید پڑھیے

آنا اسی کا بزم سے جانا اسی کا ہے

آنا اسی کا بزم سے جانا اسی کا ہے کس کو پتہ نہیں کہ زمانا اسی کا ہے اے مطلع ملال ہمارے لیے بھی کچھ تاروں بھری یہ رات خزانا اسی کا ہے اس گھر میں کوئی چیز کسی اور کی نہیں یہ پھول یہ چراغ فسانا اسی کا ہے اک عہد کر لیا تھا کبھی بھول چوک میں سانسوں کا یہ وبال بہانا اسی کا ہے اب اس گلی ...

مزید پڑھیے

کتاب پڑھتے رہے اور اداس ہوتے رہے

کتاب پڑھتے رہے اور اداس ہوتے رہے عجیب شخص تھا جس کے عذاب ڈھوتے رہے کوئی تو بات تھی ایسی کہ اس تماشے پر ہنسی بھی آئی مگر منہ چھپا کے روتے رہے ہمی کو شوق تھا دنیا کے دیکھنے کا بہت ہم اپنی آنکھوں میں خود سوئیاں چبھوتے رہے بس اپنے آپ کو پانے کی جستجو تھی کہ ہم خراب ہوتے رہے اور خود ...

مزید پڑھیے

سورج دھیرے دھیرے پگھلا پھر تاروں میں ڈھلنے لگا

سورج دھیرے دھیرے پگھلا پھر تاروں میں ڈھلنے لگا میرے اندر کا سناٹا جاگ کے آنکھیں ملنے لگا شام نے برف پہن رکھی تھی روشنیاں بھی ٹھنڈی تھیں میں اس ٹھنڈک سے گھبرا کر اپنی آگ میں جلنے لگا سارا موسم بدل چکا تھا پھول بھی تھے اور آگ بھی تھی رات نے جب یہ سوانگ رچایا چاند بھی روپ بدلنے ...

مزید پڑھیے

ہر نقش نوا لوٹ کے جانے کے لیے تھا

ہر نقش نوا لوٹ کے جانے کے لیے تھا جو بھول چکا ہوں وہ بھلانے کے لیے تھا کچھ بھید زمانے کے بھی مجھ پر نہ کھلے تھے کچھ میں بھی ریاکار زمانے کے لیے تھا کچھ میں نے بھی بے وجہ ہنسی اس کی اڑائی کچھ وہ بھی مری جان جلانے کے لیے تھا کچھ لوگ جزیروں پہ کھڑے تھے سو کھڑے ہیں سیلاب سفینوں کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 821 سے 5858