شاعری

آج میری شب فرقت کی سحر آئی ہے

آج میری شب فرقت کی سحر آئی ہے مدتوں بعد تری راہ گزر آئی ہے دیکھ تو لیجے مرے خون تمنا کی بہار جس کی سرخی مری آنکھوں میں اتر آئی ہے تو نے تو ترک محبت کی قسم کھائی تھی کیوں تری آنکھ مجھے دیکھ کے بھر آئی ہے ان کے پیراہن رنگیں کی مہک ہے اس میں آج کیا باد صبا ہو کے ادھر آئی ہے اس میں ...

مزید پڑھیے

گو تہی دامن ہوں لیکن غم نہیں

گو تہی دامن ہوں لیکن غم نہیں تیرے دامن کا سہارا کم نہیں آج ہی یہ بات اے ہمدم نہیں ایک مدت سے کوئی عالم نہیں جز ترے دل میں کسی کا غم نہیں تجھ سے اتنا رابطہ بھی کم نہیں جب قدم اٹھے تو رکتے ہیں کہیں آج منزل ہی نہیں یا ہم نہیں آنکھ ہم آشفتہ حالوں سے ملائے گردش دوراں میں اتنا دم ...

مزید پڑھیے

بے گناہی کا ہر احساس مٹا دے کوئی

بے گناہی کا ہر احساس مٹا دے کوئی مجھ کو اس دور میں جینے کی سزا دے کوئی نقش یادوں کے سبھی دل سے مٹا دے کوئی ہوش میں ہوں مجھے دیوانہ بنا دے کوئی کوئی اس شہر میں سنتا نہیں دل کی آواز کس توقع پہ کہیں جا کے صدا دے کوئی آج بھی جن کو ہے اپنوں سے وفا کی امید میری تصویر انہیں جا کے دکھا دے ...

مزید پڑھیے

زمیں پہ رہ کے دماغ آسماں سے ملتا ہے

زمیں پہ رہ کے دماغ آسماں سے ملتا ہے کبھی یہ سر جو ترے آستاں سے ملتا ہے اسی زمیں سے اسی آسماں سے ملتا ہے یہ کون دیتا ہے آخر کہاں سے ملتا ہے سنا ہے لوٹ لیا ہے کسی کو رہبر نے یہ واقعہ تو مری داستاں سے ملتا ہے در حبیب بھی ہے بت کدہ بھی کعبہ بھی یہ دیکھنا ہے سکوں اب کہاں سے ملتا ہے طلب ...

مزید پڑھیے

گلے لگا کے جو سنتے تھے دل کی آہوں کو

گلے لگا کے جو سنتے تھے دل کی آہوں کو ترس رہا ہوں انہیں کی حسین بانہوں کو قدم قدم پہ وہ آنکھیں بچھا بچھا دینا ضرور یاد تو ہوگا تمہاری راہوں کو دہائی ہے تیری اے راہزن دہائی ہے کہ آج لوٹ لیا راہبر نے راہوں کو لگے نہ پھر کبھی دامن میں داغ ان کے شمیمؔ شراب ناب سے دھویا ہے جن گناہوں ...

مزید پڑھیے

اس التفات پر کوئی دامن نہ تھام لے

اس التفات پر کوئی دامن نہ تھام لے ہے مصلحت یہی کہ تغافل سے کام لے کچھ دیر کی خوشی سے تو بہتر ہے غم مجھے میری طرف نہ دیکھ نہ میرا سلام لے میں بھی تو تیری بزم میں آیا ہوں دیر سے اب تو بھی مجھ سے ہو کے خفا انتقام لے جی بھر کے پہلے اپنی نظر سے پلا مجھے ورنہ یہ مے کدہ لے صراحی لے جام ...

مزید پڑھیے

یہ دور اہل ہوس ہے کرم سے کام نہ لے

یہ دور اہل ہوس ہے کرم سے کام نہ لے جفا سے کام لے ظالم وفا کا نام نہ لے گلہ ستم کا نہیں مجھ کو صرف خوف یہ ہے زمانہ تجھ سے کہیں میرا انتقام نہ لے زمانہ اس کو مری یاد خود دلا دے گا وہ لاکھ مجھ کو بھلا دے وہ میرا نام نہ لے مزہ تو جب ہے کہ اے صبر و ضبط عشق اک دن وہ خود سلام کرے جو مرا سلام ...

مزید پڑھیے

الٰہی کاش غم عشق کام کر جائے

الٰہی کاش غم عشق کام کر جائے جو کل گزرنی ہے مجھ پر ابھی گزر جائے تمام عمر رہے ہم تو خیر کانٹوں میں خدا کرے ترا دامن گلوں سے بھر جائے زمانہ اہل خرد سے تو ہو چکا مایوس عجب نہیں کوئی دیوانہ کام کر جائے ہمارا حشر تو جو کچھ ہوا ہوا لیکن دعا یہ ہے کہ تری عاقبت سنور جائے نگاہ شوق وہی ...

مزید پڑھیے

ترا جلوہ نہایت دل نشیں ہے

ترا جلوہ نہایت دل نشیں ہے محبت لیکن اس سے بھی حسیں ہے جنوں کی کوئی منزل ہی نہیں ہے یہاں ہر گام گام اولیں ہے سنا ہے یوں بھی اکثر ذکر ان کا کہ جیسے کچھ تعلق ہی نہیں ہے مسیحا بن کے جو نکلے تھے گھر سے لہو میں تر انہیں کی آستیں ہے میں راہ عشق کا تنہا مسافر کسے آواز دوں کوئی نہیں ...

مزید پڑھیے

ہر شے تجھی کو سامنے لائے تو کیا کروں

ہر شے تجھی کو سامنے لائے تو کیا کروں ہر شے میں تو ہی تو نظر آئے تو کیا کروں تھم تھم کے آنکھ اشک بہائے تو کیا کروں رہ رہ کے تیری یاد ستائے تو کیا کروں یہ تو بتاتے جاؤ اگر جا رہے ہو تم! مجھ کو تمہاری یاد ستائے تو کیا کروں مانا سکوں نواز ہے ہر شے بہار میں تیرے بغیر چین نہ آئے تو کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 815 سے 5858