شاعری

گلابوں سی تمہاری یاد ہر جانب مہکتی ہے

گلابوں سی تمہاری یاد ہر جانب مہکتی ہے تمہاری جستجو میں اب ہوا کی رو بھٹکتی ہے جہاں بھر میں ہزاروں بولیاں میٹھی بہت لیکن مری اردو زباں ان میں نگینے سی چمکتی ہے بزرگوں کی نشانی ہے جسے چادر میں کہتی ہوں اسے جب اوڑھ لیتی ہوں مری صورت دمکتی ہے سکوں ملتا مجھے یہ جان کر بیٹی بہت خوش ...

مزید پڑھیے

جو چل پڑوں تو کوئی حوصلہ نہیں دیں گے

جو چل پڑوں تو کوئی حوصلہ نہیں دیں گے یہ سبز پیڑ مجھے راستہ نہیں دیں گے یہ اب جو کھود رہے ہیں زمین میرے لیے میں جی اٹھوں تو کہیں بھی جگہ نہیں دیں گے ہمارے ساتھ یہی کچھ کریں گے لوگ ابھی یہ جانتے ہیں کہ ہم بد دعا نہیں دیں گے یہ آئنے ہیں بھروسا انہیں پہ کرنا ہے یہ بد زبان ہیں لیکن ...

مزید پڑھیے

زندگی بچ نکلتی ہے ہر جنگ میں وقت کے وار سے

زندگی بچ نکلتی ہے ہر جنگ میں وقت کے وار سے پھر ٹپکتا ہے اک بار لمحوں کا خوں سانس کی دھار سے کتنے شہروں کی آلودگی کو ہوا نے اکٹھا کیا اور مرنے پہ آئے تو ہم مر گئے گل کی مہکار سے درد والے تو ایمان لے آئیں ہیں لفظ پر صاحبو! لفظ کیا شے ہے پوچھو یہ فن کار سے یا عزا دار سے ڈوبتے وقت ...

مزید پڑھیے

دنیا ہے کیا چیز برابر دیکھ رہا ہوں

دنیا ہے کیا چیز برابر دیکھ رہا ہوں اپنی آنکھ سے آگے بڑھ کر دیکھ رہا ہوں ایک سمندر آنکھ سے باہر دیکھ رہا ہوں ایک سمندر اپنے اندر دیکھ رہا ہوں کس حیرت سے تیرا پیکر دیکھ رہا ہوں یوں لگتا ہے تتلی کے پر دیکھ رہا ہوں ایسے دیکھو یہ دیکھو اور وہ نہیں دیکھو بند کرو یہ میں بھی اکثر دیکھ ...

مزید پڑھیے

مری گہرائیاں پل بھر میں وہ نایاب کر دے گا

مری گہرائیاں پل بھر میں وہ نایاب کر دے گا مجھے وہ بازوؤں میں لے گا اور پایاب کر دے گا عجب انداز ہے اس گل بدن کے پیار کرنے کا مجھے پاتال تک لے جا کے محو خواب کر دے گا وہ جب چاہے جسے چاہے غرور آشنائی دے نظر بھر کر جسے دیکھے گا وہ سرخاب کر دے گا سنا ہے گل کی رعنائی رہے گی جوں کی توں ...

مزید پڑھیے

اپنی ہستی کو اندھے کنوئیں میں گرانا نہیں چاہتا

اپنی ہستی کو اندھے کنوئیں میں گرانا نہیں چاہتا میں حقیقت پسندی کو سولی چڑھانا نہیں چاہتا در بدر ہوں تو شعر و سخن کے لیے یا شکم کے لیے ورنہ میں گھر سے باہر گلی تک بھی آنا نہیں چاہتا میں نے منت نہیں مان رکھی درختوں سے گرتا رہوں میں کسی شاخ پر کوئی تنکا سجانا نہیں چاہتا ہو گئی ہے ...

مزید پڑھیے

جینے کو ایک آدھ بہانہ کافی ہوتا ہے

جینے کو ایک آدھ بہانہ کافی ہوتا ہے سچا ہو تو ایک فسانہ کافی ہوتا ہے چاند کو میں نے جب بھی دیکھا یہ احساس ہوا اک صحرا میں اک دیوانہ کافی ہوتا ہے ہم روٹھیں تو گھر کے کمرے کم پڑ جاتے ہیں ہم چاہیں تو ایک سرہانا کافی ہوتا ہے جیتے جی یہ بات نہ مانی مر کے مان گئے سب کہتے تھے ایک ٹھکانہ ...

مزید پڑھیے

بس بھئی سورج

آنکھیں جب چمکاتے ہو جان کو بس آ جاتے ہو کلیوں کو بھی مرجھاتے ہو کتنے گندے بن جاتے ہو بس بھئی سورج بس کتا کیسا کانپ رہا ہے زباں نکالے ہانپ رہا ہے کونے میں خود کو ڈھانپ رہا ہے اس کو کتنا ستاتے ہو بس بھئی سورج بس سر کو جھکائے چڑیاں ساری دھوپ کی ماری ڈر کی ماری چپکی بیٹھیں سب بے ...

مزید پڑھیے

شری گرو نانک

راز قدرت کے خبردار گرو نانک تھے واقف عالم اسرار گرو نانک تھے نشۂ حسن حقیقی سے تھے مدہوش ازل بادۂ ناب سے سرشار گرو نانک تھے کیوں مہک اٹھتا نہ خوشبو سے دماغ عالم نگہت گلشن اسرار گرو نانک تھے ذکر معبود حقیقی میں زبان سے شاطرؔ سایۂ رحمت غفار گرو نانک تھے

مزید پڑھیے
صفحہ 795 سے 5858