شاعری

کسی خیال کی شبنم سے نم نہیں ہوتا

کسی خیال کی شبنم سے نم نہیں ہوتا عجیب درد ہے بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا میں آ رہا ہوں ابھی چوم کر بدن اس کا سنا تھا آگ پہ بوسہ رقم نہیں ہوتا تمہارے ساتھ میں چل تو رہا ہوں چلنے کو ہر اک ہجوم میں لیکن میں ضم نہیں ہوتا میں ایسے خطۂ زرخیز کا مکیں ہوں جہاں صنم تراش کو پتھر بہم نہیں ...

مزید پڑھیے

جہاں سے آئے تھے شاید وہیں چلے گئے ہیں

جہاں سے آئے تھے شاید وہیں چلے گئے ہیں وہ صاحبان بشارت کہیں چلے گئے ہیں زمیں پہ رینگتے رہنے کو ہم جو ہیں موجود جو اہل شرم تھے زیر زمیں چلے گئے ہیں بہشت ہے کہ نہیں ہے یہ تو ہی جانتا ہے ترے فقیر بہ نام یقیں چلے گئے ہیں دکھائی دیں گے کبھی وقت کے جھروکوں سے وہ لوگ اب بھی یہیں ہیں ہمیں ...

مزید پڑھیے

ریشہ ریشہ بکھر گیا میں نہ کہ تو

ریشہ ریشہ بکھر گیا میں نہ کہ تو اپنی تہہ میں اتر گیا میں نہ کہ تو اے سر چکراتی وسعت کے مالک تھکتے تھکتے ٹھہر گیا میں نہ کہ تو Who broke into bits vein by vein, you or I? Who was lost in his own depths, you or I? You, the master of mind-reeling vastness: Who halted, slowly worn out, you or I?

مزید پڑھیے

در پائے اجل

گھر میں کچھ بھی نہیں تاریک سی خوشبو کے سوا کچھ چمکتا نہیں اب خوف کے جگنو کے سوا دم کہسار میں ڈھونڈا تو نہ نکلا کچھ بھی برف پر چھڑکی ہوئی خون کی خوشبو کے سوا اس کا چھپنا تھا کہ آنکھوں میں مری کچھ نہ رہا سرمئی سبز منور رم آہو کے سوا

مزید پڑھیے

تین شاموں کی ایک شام

یہ سرمئی سی شام رگوں میں جس کی دوڑتا ہے خوں شفق کے لالہ زار کا کسی حسینہ کی اتاری اوڑھنی کی طرح ملگجی سی شام جو لمحہ لمحہ خامشی کے بند کی اسیر ہے یہ آسماں کی سمت منہ اٹھا کے کس کو یاد کرتی ہے یہ مثل داغ لالۂ چمن سیاہ آنکھوں میں جو آنسوؤں کا نور بھرتی ہے تو کیا اسے بھی ہے خبر کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 796 سے 5858