قافلے گئے پھر بھی کچھ غبار باقی ہے
قافلے گئے پھر بھی کچھ غبار باقی ہے دید کا تری اب تک انتظار باقی ہے دل کو ٹوٹنا ہی تھا ٹوٹ کے وہ بکھرا بھی ہاں مگر ابھی تک کچھ یادگار باقی ہے ڈوبتی رہی کشتی ساگروں کی لہروں میں ساحلوں پہ تم ہوں گے اعتبار باقی ہے چاند خود مسافر ہے ساتھ کب تلک دے گا رہبروں کا اب بھی کیوں انتظار ...