شاعری

قافلے گئے پھر بھی کچھ غبار باقی ہے

قافلے گئے پھر بھی کچھ غبار باقی ہے دید کا تری اب تک انتظار باقی ہے دل کو ٹوٹنا ہی تھا ٹوٹ کے وہ بکھرا بھی ہاں مگر ابھی تک کچھ یادگار باقی ہے ڈوبتی رہی کشتی ساگروں کی لہروں میں ساحلوں پہ تم ہوں گے اعتبار باقی ہے چاند خود مسافر ہے ساتھ کب تلک دے گا رہبروں کا اب بھی کیوں انتظار ...

مزید پڑھیے

خوشی کے یاس کے لمحے ہمیں رلاتے ہیں

خوشی کے یاس کے لمحے ہمیں رلاتے ہیں کہ زندگی میں نشیب و فراز آتے ہیں جلاؤ اپنے لبوں پر تبسموں کے دیے اندھیرے غم کے تو آتے ہیں اور جاتے ہیں کبھی جو دل میں وفا کے چراغ جلتے تھے مگر وہ آج کہاں روشنی لٹاتے ہیں جہاں بھی جاؤں وہاں پر سکوں نہیں ملتا ہر اک جگہ پہ نئے حادثے ستاتے ہیں جو ...

مزید پڑھیے

ترے سپنے مری نیندوں کے برابر کر دے

ترے سپنے مری نیندوں کے برابر کر دے تو مجھے اپنی وفاؤں سے معطر کر دے میری سانسوں کا یقیں آج ذرا ہونے دے رو بہ رو آ کے مجھے چین میسر کر دے جس نے ساحل کے ہر اک درد کو اپنایا ہے اے خدا تو مجھے ویسا ہی سمندر کر دے وقت دیتا ہے بڑا زخم تو بھرتا بھی ہے مسکرا کے تو ذرا خود کو گل تر کر دے در ...

مزید پڑھیے

دل کے کتنے روپ

دل ہے وہ آئنہ رشتوں کی چاندنی جس میں رہتی سدا جتنا دل صاف ہو رشتے اتنے ہی نکھرے رہیں گے یہاں اس چمکتے ہوئے شیشے پر جو کبھی بال ایک آ گیا ٹوٹ جائے تو جڑنے نہ پائے کبھی دل ہے اک پھول سا جب محبت کو اس میں ملے گی جگہ ہر طرف خوشبو بن کے مہک جائے گا دل تو دریا کے جیسا لگے ہے کبھی جو غموں کو ...

مزید پڑھیے

خموشی

ہوا کی سرسراہٹ ان کے آنے کی خبر دیتی مرا دل مور بن کر ناچتا ہے ہوا بھی باندھ کر پیروں میں گھنگھرو بڑی چنچل ہوئی جاتی ہے دیکھو مرے ہم راہ وہ بھی ناچتی ہے اچانک کیا ہوا ایسا ہوا کے پاؤں ساکت ہو گئے ہیں نہ گھنگھرو ہیں نہ آوازیں بھی اس کی نہ بل کھانا نہ لہرانا وہ اس کا خموشی کی پڑی چادر ...

مزید پڑھیے

باد صرصر کی کرامات سے پہلے کیا تھا

باد صرصر کی کرامات سے پہلے کیا تھا یہ نہ پوچھو کہ یہاں رات سے پہلے کیا تھا اب تو وہ نسل بھی معدوم ہوئی جاتی ہے جو بتاتی تھی فسادات سے پہلے کیا تھا اے سمندر تری آنکھیں ہیں یہاں سب سے قدیم اس جزیرے پہ مکانات سے پہلے کیا تھا اے زمیں کتنی پرانی ہے یہ نیلی چادر تیرے شانوں پہ سماوات ...

مزید پڑھیے

کچھ اس طرح وہ نگاہیں چرائے جاتے ہیں

کچھ اس طرح وہ نگاہیں چرائے جاتے ہیں کہ اور بھی مرے نزدیک آئے جاتے ہیں اس التفات گریزاں کو نام کیا دیجے جواب دیتے نہیں مسکرائے جاتے ہیں نگاہ لطف سے دیکھو نہ اہل دل کی طرف دلوں کے راز زبانوں پہ آئے جاتے ہیں وہ جن سے ترک تعلق کو اک زمانہ ہوا نہ جانے آج وہ کیوں یاد آئے جاتے ...

مزید پڑھیے

ہم ترک تعلق کا گلا بھی نہیں کرتے

ہم ترک تعلق کا گلا بھی نہیں کرتے تم اتنے خفا ہو کہ جفا بھی نہیں کرتے تم شوق سے اعلان جفا پر رہو نازاں ہم جرأت اظہار وفا بھی نہیں کرتے مانا کہ ہنسی بھی ہے ادا آپ کی لیکن اتنا کسی بیکس پہ ہنسا بھی نہیں کرتے ہم جرأت گفتار کے قائل تو ہیں لیکن ہر بات سر بزم کہا بھی نہیں کرتے ہر حال ...

مزید پڑھیے

پہلے ثابت کریں اس وحشی کی تقصیریں دو

پہلے ثابت کریں اس وحشی کی تقصیریں دو کیوں مرے پاؤں میں پہناتے ہیں زنجیریں دو دونوں زلفوں کا تری آیا جو وحشت میں خیال پڑ گئیں پاؤں میں میرے وہیں زنجیریں دو کہاں قاصد نے کہ لایا ہوں میں پیغام وصال آج خلعت مجھے پہناؤ کہ جاگیریں دو درد دل درد ہوا سینہ کی سوزش بھی گئی شربت وصل میں ...

مزید پڑھیے

جو تیری راہ گزر میں چبھا تھا خار مجھے

جو تیری راہ گزر میں چبھا تھا خار مجھے سفر کی یاد دلاتا ہے بار بار مجھے وہ خوش ادا ہے بہت لوگ مجھ سے کہتے ہیں مگر یہ بات گزرتی ہے ناگوار مجھے تمام عمر گزر جائے تجھ تک آنے میں نہ اتنی دور سے اے زندگی پکار مجھے زمانہ بیت گیا محو رقص چاک پہ ہوں کوئی بھی شکل ہو اے کوزہ گر اتار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 794 سے 5858