تلخ تجربہ
بچپن بیتا کھوئی جوانی آیا بزرگی کا موسم جس کی ہر اک ساعت نے آنکھوں کو بے نور کیا آس کو چکنا چور کیا تب جا کر یہ راز کھلا رات کے تٹ پر آ کر سورج ظلمت کا ہو جاتا ہے اور تعطل جسموں میں بو جاتا ہے
بچپن بیتا کھوئی جوانی آیا بزرگی کا موسم جس کی ہر اک ساعت نے آنکھوں کو بے نور کیا آس کو چکنا چور کیا تب جا کر یہ راز کھلا رات کے تٹ پر آ کر سورج ظلمت کا ہو جاتا ہے اور تعطل جسموں میں بو جاتا ہے
کل رات ہوا یوں بھی اک چاند بدن لڑکی تخئیل میں جب اتری دنیا کے مسائل نے ہر دل کی مسرت کو مصلوب بنا ڈالا اور اس سے تخاطب پر محسوس ہوا مجھ کو جیسے کوئی صدیوں کی بچھڑی ہوئی دو روحیں آپس میں مخاطب ہوں بے روح کی قالب ہوں
ہوس کا کھیل بھی کتنا مسرت خیز ہوتا ہے کہ اس کے کھیلنے والے یہ اکثر بھول جاتے ہیں بدن میں جب بدن کی لذتیں غرقاب ہوتی ہیں تو ان کے ساتھ اک ایسی تباہی جسم میں تحلیل ہو جاتی ہے جس کا عمر بھر کوئی ازالہ ہو نہیں سکتا
چاندنی کے موسم میں زندگی کے رستے میں پیار کے درختوں کے دل فریب سے سائے رینگتے نظر آئے کشمکش کے عالم میں خود بخود جھکیں پلکیں سائے بن گئے زنجیر دھڑکنیں پکار اٹھیں جسم کا ادھوراپن موت کی علامت ہے
یہ کیسی جنگ ہے جو اپنی منفعت کے لئے غریب ملکوں کی آزادیوں کو چھینتی ہے یہ کیسی جنگ ہے جس میں مقابلے کے بغیر نشانہ سادھ کے گولی چلائی جاتی ہے یہ کیسی جنگ ہے جس میں اسیر لوگوں پر اذیتوں کے لئے کتے چھوڑے جاتے ہیں یہ کیسی جنگ ہے جس میں بموں کی یورش سے سماعتیں بھی خدا کی پناہ چاہتی ...
میں اپنی عمر کے سب آخری لمحے حصار فکر سے باہر نکل کر جینا چاہوں تو مرے خالق مرے احساس پر بجلی گرا دینا مجھے پاگل بنا دینا
ابھی میں برف سے لپٹے ہوئے جزیرے پر خود اپنے آپ سے ملنے کی آرزو لے کر لگا ہوا ہوں سویرے کو شام کرنے میں سمندروں میں ابھرتے بھنور بلاتے ہیں افق سے آتی صدائیں بھی کھینچتی ہیں مگر میں اپنی سوچ سے باہر نکل نہیں سکتا عجیب خوابوں کا بے نام سلسلہ ہے یہ کہ زندگی سے کوئی رابطہ نہیں ...
دست جنوں جو بند قبا تک پہنچ گیا جوش بہار حسن صبا تک پہنچ گیا مجھ پر کھلا جو باب رموز خود آگہی میں خود سے ہو کے ذہن خدا تک پہنچ گیا آیا نہ زندگی کی حقیقت کا سنگ میل میں سرحد دیار فنا تک پہنچ گیا اس بت کی ہے عطا کہ مرا طمطراق حرف معراج حمد و مدح و ثنا تک پہنچ گیا عہد بہار میں اثر ...
حسن تیرا جو کبھی وجد میں لاتا ہے مجھے یہ جہاں آئنہ خانہ نظر آتا ہے مجھے دشت پر خار میں کھینچے لیے جاتا ہے مجھے ہر نیا عشق ترے ہجر میں پاتا ہے مجھے میں نہیں مسلک ارباب وفا سے واقف حسن کیوں راز کی ہر بات بتاتا ہے مجھے جانے یہ تو ہے ترا غم ہے کہ دل کی وحشت جانب کوہ ندا کوئی بلاتا ہے ...
شہر میں اک قتل کی افواہ روشن کیا ہوئی اک طرف تکبیر تھی اور اک طرف جے کی پکار خوف و دہشت کے اثر سے چند بپھرے نوجواں زندگی کو کر رہے تھے ہر طرف کھل کر شکار خون سے لتھڑی ہوئی لاشیں اٹھائے گود میں آسماں کی سمت مائیں دیکھتی تھیں بار بار جبر و استحصال کے اس آتشیں سیلاب میں بہہ گئے ...