شاعری

پہلی بار وہ خط لکھا تھا

پہلی بار وہ خط لکھا تھا جس کا جواب بھی آ سکتا تھا خود افواہ اڑاتا تھا میں خود ہی یقیں بھی کر لیتا تھا اس سے کہو اس روپ میں آئے جیسا پہلی نظر میں لگا تھا بھول چکا تھا دے کے صدا میں تب جنگل کا جواب آیا تھا ہم تو پرائے تھے اس گھر میں ہم سے کون خفا ہوتا تھا ٹوٹ گئے اس کوشش میں ...

مزید پڑھیے

اک دن خود کو اپنے پاس بٹھایا ہم نے

اک دن خود کو اپنے پاس بٹھایا ہم نے پہلے یار بنایا پھر سمجھایا ہم نے خود بھی آخر کار انہی وعدوں سے بہلے جن سے ساری دنیا کو بہلایا ہم نے بھیڑ نے یوں ہی رہبر مان لیا ہے ورنہ اپنے علاوہ کس کو گھر پہنچایا ہم نے موت نے ساری رات ہماری نبض ٹٹولی ایسا مرنے کا ماحول بنایا ہم نے گھر سے ...

مزید پڑھیے

وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھی

وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھی تمام بازی گروں کو مری ضرورت تھی وہ بات سوچ کے میں جس کو مدتوں جیتا بچھڑتے وقت بتانے کی کیا ضرورت تھی پتا نہیں یہ تمنائے قرب کب جاگی مجھے تو صرف اسے سوچنے کی عادت تھی خموشیوں نے پریشاں کیا تو ہوگا مگر پکارنے کی یہی صرف ایک صورت ...

مزید پڑھیے

بے مہریٔ قضا کے ستائے ہوئے ہیں ہم

بے مہریٔ قضا کے ستائے ہوئے ہیں ہم الزام زندگی کا اٹھائے ہوئے ہیں ہم حسن سلوک یار کا اعجاز کیا کہیں سو داغ ایک دل پہ اٹھائے ہوئے ہیں ہم اب کس سے لے قصاص زمانے میں منصفی اپنے لہو میں آپ نہائے ہوئے ہیں ہم پتھر کے اک صنم کو بہ صد ناز و طمطراق شیشے کے پیرہن میں چھپائے ہوئے ہیں ...

مزید پڑھیے

ہر سانس اک ہجوم پریشاں دھواں کا تھا

ہر سانس اک ہجوم پریشاں دھواں کا تھا اپنا وجود سانحہ جلتے مکاں کا تھا اک جرم کانچ کا ہی نہیں خوں رلانے میں کچھ ہاتھ کم نگاہیٔ شیشہ گراں کا تھا پتھر تو دشمنوں نے بھی پھینکے ہزار بار جو گھاؤ لگ سکا وہ فقط دوستاں کا تھا جس دام پر بھی مانگا زمانے کو دے دیا ہر سانس کوئی مال اک اٹھتی ...

مزید پڑھیے

زندگی ذوق پرستش کی سزا مانگے ہے

زندگی ذوق پرستش کی سزا مانگے ہے کانچ کے کعبے میں پتھر کا خدا مانگے ہے آج پھر اپنے پیمبر کی پناہوں کے لئے عہد آشوب کوئی غار حرا مانگے ہے زندگی آج ہے انسان کی تو مثل قفس عمر پیہم کے لئے اپنی چتا مانگے ہے حسن کاری کے لئے آج یہ دل دار سخن رنگ خوں اور ذرا بوئے حنا مانگے ہے منت گوش ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی شخص نہ سایہ کہیں نگر میں تھا

نہ کوئی شخص نہ سایہ کہیں نگر میں تھا بلا کا خواب تماشا مری نظر میں تھا ابھرتے ڈوبتے رشتوں کی دھوپ چھاؤں میں اک اجنبی کی طرح میں بھی اپنے گھر میں تھا سروں کے پھول کی بارش نہ تھم سکی آخر امڈتے دار کا ساون مرے نگر میں تھا تڑپ رہی تھیں دریچوں میں ڈوبتی کرنیں گزرتے وقت کا سورج کہیں ...

مزید پڑھیے

دنیا عجیب کھیل تماشا لگے مجھے

دنیا عجیب کھیل تماشا لگے مجھے ہر آدمی ہجوم میں تنہا لگے مجھے گونگے مجاہدوں کا یہ ٹھہرا ہوا جلوس پرچھائیوں کا ایک جزیرہ لگے مجھے بازار سنگ و خشت میں سو نازکی کے ساتھ اپنی حیات کانچ کی گڑیا لگے مجھے سورج مکھی کی طرح بدلتی ہے رخ حیات جب آفتاب وقت ابھرتا لگے مجھے اس درجہ موج خوں ...

مزید پڑھیے

دلوں پر نقش ہونا چاہتا ہوں

دلوں پر نقش ہونا چاہتا ہوں مکمل موت سے گھبرا رہا ہوں سبھی سے راز کہہ دیتا ہوں اپنے نہ جانے کیا چھپانا چاہتا ہوں توجہ کے لئے ترسا ہوں اتنا کہ اک الزام پر خوش ہو رہا ہوں مجھے محفل کے باہر کا نہ جانو میں اپنا جام خالی کر چکا ہوں یہ عادت بھی اسی کی دی ہوئی ہے کہ سب کو مسکرا کر ...

مزید پڑھیے

خواب ویسے تو اک عنایت ہے

خواب ویسے تو اک عنایت ہے آنکھ کھل جائے تو مصیبت ہے جسم آیا کسی کے حصے میں دل کسی اور کی امانت ہے جان دینے کا وقت آ ہی گیا اس تماشے کے بعد فرصت ہے عمر بھر جس کے مشوروں پہ چلے وہ پریشان ہے تو حیرت ہے اب سنورنے کا وقت اس کو نہیں جب ہمیں دیکھنے کی فرصت ہے اس پہ اتنے ہی رنگ کھلتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 776 سے 5858