پہلی بار وہ خط لکھا تھا
پہلی بار وہ خط لکھا تھا جس کا جواب بھی آ سکتا تھا خود افواہ اڑاتا تھا میں خود ہی یقیں بھی کر لیتا تھا اس سے کہو اس روپ میں آئے جیسا پہلی نظر میں لگا تھا بھول چکا تھا دے کے صدا میں تب جنگل کا جواب آیا تھا ہم تو پرائے تھے اس گھر میں ہم سے کون خفا ہوتا تھا ٹوٹ گئے اس کوشش میں ...