شاعری

یہ سچ ہے دنیا بہت حسیں ہے

یہ سچ ہے دنیا بہت حسیں ہے مگر مری عمر کی نہیں ہے تری جگہ کون لے سکے گا تو میرا پہلا تماش بیں ہے مجھی پہ ہے سوچنے کا ذمہ اسے تو ہر بات کا یقیں ہے بجھا ہی رہتا ہے دل ہمارا نہ جانے کس دھوپ کا نگیں ہے ہے مجھ پہ الزام خود ستائش اور اس میں کچھ جھوٹ بھی نہیں ہے نہ رکھ بہت ہوش کی توقع کہ ...

مزید پڑھیے

کم سے کم دنیا سے اتنا مرا رشتہ ہو جائے

کم سے کم دنیا سے اتنا مرا رشتہ ہو جائے کوئی میرا بھی برا چاہنے والا ہو جائے اسی مجبوری میں یہ بھیڑ اکٹھا ہے یہاں جو ترے ساتھ نہیں آئے وہ تنہا ہو جائے شکر اس کا ادا کرنے کا خیال آئے کسے ابر جب اتنا گھنا ہو کہ اندھیرا ہو جائے ہاں نہیں چاہئے اس درجہ محبت تیری کہ مرا سچ بھی ترے جھوٹ ...

مزید پڑھیے

انتہا تک بات لے جاتا ہوں میں

انتہا تک بات لے جاتا ہوں میں اب اسے ایسے ہی سمجھاتا ہوں میں کچھ ہوا کچھ دل دھڑکنے کی صدا شور میں کچھ سن نہیں پاتا ہوں میں بن کہے آؤں گا جب بھی آؤں گا منتظر آنکھوں سے گھبراتا ہوں میں یاد آتی ہے تری سنجیدگی اور پھر ہنستا چلا جاتا ہوں میں فاصلہ رکھ کے بھی کیا حاصل ہوا آج بھی اس کا ...

مزید پڑھیے

ہاتھ آتا تو نہیں کچھ پہ تقاضہ کر آئیں

ہاتھ آتا تو نہیں کچھ پہ تقاضہ کر آئیں اور اک بار گلی کا تری پھیرا کر آئیں نیند کے واسطے ویسے بھی ضروری ہے تھکن پیاس بھڑکائیں کسی سائے کا پیچھا کر آئیں لطف دیتی ہے مسیحائی پر اتنا بھی نہیں جوش میں اپنے ہی بیمار کو اچھا کر آئیں لوگ محفل میں بلاتے ہوئے کتراتے تھے اب نہیں دھڑکا یہ ...

مزید پڑھیے

نہیں میں حوصلہ تو کر رہا تھا

نہیں میں حوصلہ تو کر رہا تھا ذرا تیرے سکوں سے ڈر رہا تھا اچانک جھینپ کر ہنسنے لگا میں بہت رونے کی کوشش کر رہا تھا بھنور میں پھر ہمیں کچھ مشغلے تھے وہ بیچارہ تو ساحل پر رہا تھا لرزتے کانپتے ہاتھوں سے بوڑھا چلم میں پھر کوئی دکھ بھر رہا تھا اچانک لو اٹھی اور جل گیا میں بجھی کرنوں ...

مزید پڑھیے

برسوں جنوں صحرا صحرا بھٹکاتا ہے

برسوں جنوں صحرا صحرا بھٹکاتا ہے گھر میں رہنا یوں ہی نہیں آ جاتا ہے پیاس اور دھوپ کے عادی ہو جاتے ہیں ہم جب تک دشت کا کھیل سمجھ میں آتا ہے عادت تھی سو پکار لیا تم کو ورنہ اتنے کرب میں کون کسے یاد آتا ہے موت بھی اک حل ہے تو مسائل کا لیکن دل یہ سہولت لیتے ہوئے گھبراتا ہے اک تم ہی تو ...

مزید پڑھیے

بڑا ہے دکھ سو حاصل ہے یہ آسانی مجھے

بڑا ہے دکھ سو حاصل ہے یہ آسانی مجھے کہ ہمت ہی نہیں کچھ یاد کرنے کی مجھے چلا آتا ہے چپکے سے رضائی میں مری بری لگتی ہے سورج کی یہ بے باکی مجھے چھپاتا پھر رہا ہوں خود کو میں کس سے یہاں اگر پہچاننے والا نہیں کوئی مجھے گزر جائے گی ساری زندگی امید میں نہ جینے دے گی یہ جینے کی تیاری ...

مزید پڑھیے

لوگ سہہ لیتے تھے ہنس کر کبھی بے زاری بھی

لوگ سہہ لیتے تھے ہنس کر کبھی بے زاری بھی اب تو مشکوک ہوئی اپنی ملن ساری بھی وار کچھ خالی گئے میرے تو پھر آ ہی گئی اپنے دشمن کو دعا دینے کی ہشیاری بھی عمر بھر کس نے بھلا غور سے دیکھا تھا مجھے وقت کم ہو تو سجا دیتی ہے بیماری بھی کس طرح آئے ہیں اس پہلی ملاقات تلک اور مکمل ہے جدا ...

مزید پڑھیے

سونا آنگن نیند میں ایسے چونک اٹھا ہے

سونا آنگن نیند میں ایسے چونک اٹھا ہے سوتے میں بھی جیسے کوئی سسکی لیتا ہے گھر میں تو اس ماحول کا میں عادی ہوں لیکن بازاروں کی ویرانی سے دم گھٹتا ہے مدت سے میں سوچ رہا تھا اب سمجھا ہوں جیب اور آنکھ کے خالی پن میں کیا رشتہ ہے اتنے لوگ مجھے رخصت کرنے آئے ہیں گھر واپس جانا بھی تماشا ...

مزید پڑھیے

آئنے کا ساتھ پیارا تھا کبھی

آئنے کا ساتھ پیارا تھا کبھی ایک چہرے پر گزارا تھا کبھی آج سب کہتے ہیں جس کو ناخدا ہم نے اس کو پار اتارا تھا کبھی یہ مرے گھر کی فضا کو کیا ہوا کب یہاں میرا تمہارا تھا کبھی تھا مگر سب کچھ نہ تھا دریا کے پار اس کنارے بھی کنارا تھا کبھی کیسے ٹکڑوں میں اسے کر لوں قبول جو مرا سارے کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 775 سے 5858