شاعری

ہوگی اس ڈھیر عمارت کی کہانی کچھ تو

ہوگی اس ڈھیر عمارت کی کہانی کچھ تو ڈھونڈ الفاظ کے ملبے میں معانی کچھ تو لوگ کہتے ہیں کہ تو مجھ کو برا کہتا ہے میں بھی سن لوں ترے ہونٹوں کی زبانی کچھ تو برف نے کرب کی پتوار کو بھی توڑ دیا دل کے دریا کو عطا کر دے روانی کچھ تو بھول بیٹھے ہیں وہ بچپن کے فسانے لیکن یاد ہوگی انہیں ...

مزید پڑھیے

نسب یہ ہے کہ وہ دشمن کو کم نسب نہ کہے

نسب یہ ہے کہ وہ دشمن کو کم نسب نہ کہے عجب یہ ہے کہ یہ دنیا اسے عجب نہ کہے مری نگاہ جنوں میں یہ بات بھول گئی کہ کب کہے مرے جذبات اور کب نہ کہے وہ برہمی کی جو اک داستاں تھی ختم ہوئی اسے کہو کہ وہ اس سے وہ بات اب نہ کہے وہ بے زبان نہیں ہے تو کم نظر ہوگا جو چشم و لب ترے دیکھے مگر غضب نہ ...

مزید پڑھیے

تعلقات چٹختے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں

تعلقات چٹختے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں جب ہم خلوص و محبت کو آزماتے ہیں خوشی کا ایک نیا زاویہ ابھرتا ہے ہم اپنے بچوں سے جس وقت ہار جاتے ہیں شغف ہے خوب روایات رفتگاں سے مگر ہم عہد نو کے ترانے بھی گنگناتے ہیں اداس شب بھی اماوس کی مسکراتی ہے جو قمقمے سے نگاہوں میں جگمگاتے ہیں ہمارے بیچ جو ...

مزید پڑھیے

بے انتہا ہونا ہے تو اس خاک کے ہو جاؤ

بے انتہا ہونا ہے تو اس خاک کے ہو جاؤ امکاں کی مسافت کرو افلاک کے ہو جاؤ سب قصوں کو چھوڑو دل صدچاک کے ہو جاؤ اس دور جنوں خیز میں ادراک کے ہو جاؤ خوشیوں سے کہاں ربط ہے ہم کو بھی تمہیں بھی آ جاؤ اسی لمحۂ نمناک کے ہو جاؤ اس باغ میں شمشیر ہوا سے نہ بچوگے خوش رنگ ہو جاؤ کسی پوشاک کے ہو ...

مزید پڑھیے

ہنستے ہوئے حروف میں جس کو ادا کروں

ہنستے ہوئے حروف میں جس کو ادا کروں بچوں سے کس جہاں کی کہانی کہا کروں یا رب عذاب حرف و تخیل سے دے نجات غزلیں کہا کروں نہ مضامیں لکھا کروں قدموں میں کس کے ڈال دوں یہ نام یہ نسب کچھ تو بتاؤ کس کا قصیدہ پڑھا کروں اب تک تو اپنے آپ سے پیچھا نہ چھٹ سکا ممکن ہے کل سے آپ کے حق میں دعا ...

مزید پڑھیے

زہر شب ویران بستر اے خدا

زہر شب ویران بستر اے خدا کرب اک منظر بہ منظر اے خدا میں ترے شاہیں کا شہپرؔ اے خدا کون ہے میرے برابر اے خدا کاش تو بھی مجھ میں آ کر دیکھتا ڈوبتے سورج کا منظر اے خدا دوستی اور دشمنی کے نام سے قید ہوں کس کس کے اندر اے خدا زیر کچھ بونے مجھے کیسے کریں ان حقیروں کی مدد کر اے خدا بیچ ...

مزید پڑھیے

پھر سے وہی حالات ہیں امکاں بھی وہی ہے

پھر سے وہی حالات ہیں امکاں بھی وہی ہے ہم بھی ہیں وہی مسئلۂ جاں بھی وہی ہے کچھ بھی نہیں بدلا ہے یہاں کچھ نہیں بدلا آنکھیں بھی وہی خواب پریشاں بھی وہی ہے یہ جال بھی اس نے ہی بچھایا تھا اسی نے خوش خوش بھی وہی شخص تھا حیراں بھی وہی ہے اے وقت کہیں اور نظر ڈال یہ کیا ہے مدت کے وہی ہاتھ ...

مزید پڑھیے

ایک دن نہ رونے کا فیصلہ کیا میں نے

ایک دن نہ رونے کا فیصلہ کیا میں نے اور پھر بدل ڈالا اپنا فیصلہ میں نے دل میں ولولہ سا کچھ چال میں انا سی کچھ جیسے خود نکالا ہو اپنا راستہ میں نے مجھ میں اپنی ہی صورت دیکھنے لگے ہیں سب جانے کب بنا ڈالا خود کو آئینہ میں نے اس کو بھی تھا کچھ کہنا مجھ کو بھی تھا کچھ سننا اور کچھ کہا ...

مزید پڑھیے

اس کی باتیں کیا کرتے ہو وہ لفظوں کا بانی تھا

اس کی باتیں کیا کرتے ہو وہ لفظوں کا بانی تھا اس کے کتنے لہجے تھے اور ہر لہجہ لافانی تھا جب میں گھر سے نکلا تھا تب خشک زباں پر کانٹے تھے اور جب گھر میں واپس آیا گردن گردن پانی تھا جب کچھ معصوموں کی جاں تھی حیوانوں کے نرغے میں تب ہر صورت ہو سکتی تھی ہر خطرہ امکانی تھا نام خدا اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 728 سے 5858