ہوگی اس ڈھیر عمارت کی کہانی کچھ تو
ہوگی اس ڈھیر عمارت کی کہانی کچھ تو ڈھونڈ الفاظ کے ملبے میں معانی کچھ تو لوگ کہتے ہیں کہ تو مجھ کو برا کہتا ہے میں بھی سن لوں ترے ہونٹوں کی زبانی کچھ تو برف نے کرب کی پتوار کو بھی توڑ دیا دل کے دریا کو عطا کر دے روانی کچھ تو بھول بیٹھے ہیں وہ بچپن کے فسانے لیکن یاد ہوگی انہیں ...