عذاب ہجر بھی ہے راحت وصال کے ساتھ
عذاب ہجر بھی ہے راحت وصال کے ساتھ ملی تو ہیں مجھے خوشیاں مگر ملال کے ساتھ تمہاری یاد میں بھی ضبط و اعتدال کہاں میں تم سے کیسے ملوں ضبط و اعتدال کے ساتھ یہی بہت ہے زمانہ میں چار دن کے لئے اگر حیات کٹے ایک ہم خیال کے ساتھ کچھ اس طرح شب مہ نے کرن کی دستک دی ابھر گئیں کئی چوٹیں ...