شاعری

ترک تعلق

پا بہ گل رات ڈھلے گی نہ سحر آئے گی کوئی سورج کسی مشرق سے نہ نکلے گا کبھی ریزہ ریزہ ہوئے مہتاب زمانے گزرے بجھ گئے وعدۂ موہوم کے سارے جگنو اب کوئی برق ہی چمکے گی نہ ابر آئے گا چار سو گھور اندھیرا ہے گھنا جنگل ہے تو کہاں جائے گی پھنکارتے سناٹے میں سرحد یاد گزشتہ سے پرے کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

قید حیات و بند غم

آخر شب کی اداسی نم فضاؤں کا سکوت زخم سے مہتاب کے رستا ہے کرنوں کا لہو دل کی وادی پر ہے بے موسم گھٹاؤں کا سکوت کاش کوئی غم گسار آئے مداراتیں کرے موم بتی کی پگھلتی روشنی کے کرب میں دکھ بھرے نغمے سنائے دکھ بھری باتیں کرے کوئی افسانہ کسی ٹوٹی ہوئی مضراب کا فصل گل میں رائیگاں عرض ہنر ...

مزید پڑھیے

در گذر

کون وہ لوگ تھے اب یاد نہیں آتا ہے پھینک آئے تھے مجھے یوسف کنعاں کی طرح کھینچ لائے تھے مجھے شہر کے بازاروں میں سب کو دکھلاتے تھے آئینہ حیراں کی طرح لوگ کہتے ہیں کہ کوئی بھی خریدار نہ تھا کون وہ لوگ تھے اب یاد نہیں آتا ہے چھوڑ آئے تھے سلگتے ہوئے میداں میں مجھے ایڑیاں رگڑیں مگر چشمۂ ...

مزید پڑھیے

وہ نیاز و ناز کے مرحلے نگہ و سخن سے چلے گئے

وہ نیاز و ناز کے مرحلے نگہ و سخن سے چلے گئے ترے رنگ و بو کے وہ قافلے ترے پیرہن سے چلے گئے کوئی آس ہے نہ ہراس ہے شب ماہ کتنی اداس ہے وہ جو رنگ رنگ کے عکس تھے وہ کرن کرن سے چلے گئے کوئی ان کی آنکھیں سراہتا کوئی وحشتوں سے نباہتا کہ وہ آہوان رمیدہ خو یہ سنا ختن سے چلے گئے کئی مہر و مہ ...

مزید پڑھیے

اے جنوں دشت میں دیوار کہاں سے لاؤں

اے جنوں دشت میں دیوار کہاں سے لاؤں میں تماشا سہی بازار کہاں سے لاؤں یاد ایام کہ کچھ سر میں سمائی تھی ہوا اب وہ ٹوٹا ہوا پندار کہاں سے لاؤں کس سے پوچھوں کہ مرا حال پریشاں کیا ہے تجھ کو اے آئنہ بردار کہاں سے لاؤں میری ان آنکھوں نے جیسے تجھے دیکھا ہی نہیں ہائے وہ حسرت دیدار کہاں ...

مزید پڑھیے

کون دیتا رہا صحرا میں صدا میری طرح

کون دیتا رہا صحرا میں صدا میری طرح آج تنہا ہوں مگر کوئی تو تھا میری طرح میں تری راہ میں پامال ہوا جاتا ہوں مٹ نہ جائے ترا نقش کف پا میری طرح میں ہی تنہا ہوں فقط تیری بھری دنیا میں اور بھی لوگ ہیں کیا میرے خدا میری طرح رنگ ارباب رضا پیشہ مبارک ہو تجھے کوئی ہوتا ہی نہیں تجھ سے خفا ...

مزید پڑھیے

میں تو چپ تھا مگر اس نے بھی سنانے نہ دیا

میں تو چپ تھا مگر اس نے بھی سنانے نہ دیا غم دنیا کا کوئی ذکر تک آنے نہ دیا اس کا زہرابۂ پیکر ہے مری رگ رگ میں اس کی یادوں نے مگر ہاتھ لگانے نہ دیا اس نے دوری کی بھی حد کھینچ رکھی ہے گویا کچھ خیالات سے آگے مجھے جانے نہ دیا بادباں اپنے سفینہ کا ذرا سی لیتے وقت اتنا بھی زمانہ کی ہوا ...

مزید پڑھیے

سنبھلا نہیں دل تجھ سے بچھڑ کر کئی دن تک

سنبھلا نہیں دل تجھ سے بچھڑ کر کئی دن تک میں آئینہ تھا بن گیا پتھر کئی دن تک کیا چیز تھی ہم رکھ کے کہیں بھول گئے ہیں وہ چیز کہ یاد آئی نہ اکثر کئی دن تک اے شاخ وفا پھر وہ پرندہ نہیں لوٹا میں گھر میں تھا نکلا نہیں باہر کئی دن تک وہ بوجھ کہ تھی جس سے مرے سر کی بلندی وہ بوجھ گرا اٹھ نہ ...

مزید پڑھیے

ہوا کے دوش پہ رقص سحاب جیسا تھا

ہوا کے دوش پہ رقص سحاب جیسا تھا ترا وجود حقیقت میں خواب جیسا تھا دم وداع سمندر بچھا رہا تھا کوئی تمام شہر ہی چشم پر آب جیسا تھا مری نگاہ میں رنگوں کی دھوپ چھاؤں سی تھی ہجوم گل میں وہ کیا تھا گلاب جیسا تھا ہماری پیاس نے وہ بھی نظارہ دیکھ لیا رواں دواں کوئی دریا سراب جیسا ...

مزید پڑھیے

سنبھل اے قدم کہ یہ کارگاہ نشاط و غم ہے خبر بھی ہے

سنبھل اے قدم کہ یہ کارگاہ نشاط و غم ہے خبر بھی ہے جسے لوگ کہتے ہیں رہ گزر کسی پا شکستہ کا گھر بھی ہے مجھے مدتوں یہی وہم تھا کہ یہ خاک کیمیا بن گئی اسی کشمکش میں گزر گئی کہ فغاں کروں تو اثر بھی ہے ہمہ انکسار کی کیفیت ہے دم وداع کی بے بسی مجھے یوں پیام سکوں نہ دے تجھے اپنے آپ سے ڈر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 721 سے 5858