سانسوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں چھپا لوں گا
سانسوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں چھپا لوں گا جب چاہوں تمہیں دیکھوں آئینہ بنا لوں گا یادوں سے کہو میری بالیں سے چلی جائیں اب اے شب تنہائی آرام ذرا لوں گا رنجش سے جدائی تک کیا سانحہ گزرا ہے کیا کیا مجھے دعویٰ تھا جب چاہوں منا لوں گا تصویر خیالی ہے ہر آنکھ سوالی ہے دنیا مجھے کیا دے ...