شاعری

خوف کا صحرا

کیا ہوا شوق فضول کیا ہوئی جرأت رندانہ مری مجھ پہ کیوں ہنستی ہے تعمیر صنم خانہ مری پھر کوئی باد جنوں تیز کرے آگہی ہے کہ چراغوں کو جلاتی ہی چلی جاتی ہے دور تک خوف کا صحرا نظر آتا ہے مجھے اور اب سوچتا ہوں فکر کی اس منزل میں عشق کیوں عقل کی دیوار سے سر ٹکرا کر اپنے ماتھے سے لہو پونچھ ...

مزید پڑھیے

رتجگا

اندھیری رات ہوا تیز برشگال کا شور کروں تو کیسے کروں شمع کی نگہبانی ان آندھیوں میں کف دست کا سہارا کیا کہاں چلے گئے تم سونپ کر یہ دولت نور مری حیات تو جگنو کی روشنی میں کٹی نہ آفتاب سے نسبت نہ ماہتاب رفیق جنم جنم کی سیاہی برس برس کی یہ رات قدم قدم کا اندھیرا نفس نفس کی یہ ...

مزید پڑھیے

اب تیرے انتظار کی عادت نہیں رہی

اب تیرے انتظار کی عادت نہیں رہی پہلے کی طرح گویا محبت نہیں رہی ذوق نظر ہمارا بڑھا ہے کچھ اس طرح تیرے جمال پر بھی قناعت نہیں رہی فرقت میں اس کی روز ہی ہوتی تھی اک غزل اب شاعری ذریعۂ راحت نہیں رہی دنیا نے تیرے غم سے بھی بیگانہ کر دیا اب دل میں تیرے وصل کی چاہت نہیں رہی کچھ ہم بھی ...

مزید پڑھیے

زمیں کا قرض

زمیں کا قرض ہے ہم سب کے دوش و گردن پر عجیب قرض ہے یہ قرض بے طلب کی طرح ہمیں ہیں سبزۂ خود رو ہمیں ہیں نقش قدم کہ زندگی ہے یہاں موت کے سبب کی طرح ہر ایک چیز نمایاں ہر ایک شے پنہاں کہ نیم روز کا منظر ہے نیم شب کی طرح تماشہ گاہ جہاں عبرت نظارہ ہے زیاں بدست رفاقت کے کاروبار مرے اترتی جاتی ...

مزید پڑھیے

سنگ آباد کی ایک دکاں

سنگ آباد میں کیا میں نے دکاں کھولی ہے لوگ حیرت زدہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں اک خریدار نے پوچھا کہ سبب کیا تو زباں کھولی ہے یہ ہے قرنوں سے کھڑا سوچ کی آواز کا بت کوئی وجدان کا موسم کوئی الہام کی رت جب بھی آئے گی یہ دے گا کوئی نادیدہ سراغ آپ ادھر آنکھ اٹھائیں تو دکھائی دے گا شیشۂ لمحہ ہے ...

مزید پڑھیے

زنجیر کی چیخ

سمندر تجھے چھوڑ کر جا رہا ہوں تو یہ مت سمجھنا کہ میں تیری موجوں کی زنجیر کی چیخ سے بے خبر ہوں یہی میں نے سوچا ہے اپنی زمیں کو افق سے پرے یوں بچھا دوں حداین و ں تک اٹھا دوں وہ تو ہو کہ میں اپنی وسعت میں لا انتہا ہیں مگر ہم کناروں کے مارے ہوئے ہیں

مزید پڑھیے

اجنبی

اب یہ احساس دم فکر سخن ہونے لگا اپنی ہی نظموں کا بھولا ہوا کردار ہوں میں میں مسافر ہوں بیابان فراموشی کا اپنے نقش کف پا سے بھی شناسائی نہیں تا بہ پہنائے نظر ریت کے ٹیلوں کا سکوت اپنا سایہ بھی یہاں مونس تنہائی نہیں تیر بن کر کوئی سناٹے کے دل میں اترے کسی مایوس پرندے کی صدائے ...

مزید پڑھیے

ہم زاد

وہ اک شخص جس کی شباہت سے مجھ کو بہت خوار و شرمندہ ہونا پڑا تھا قبا روح کی ملگجی ہو گئی تھی کئی بار دامن کو دھونا پڑا تھا وہ مجھ جیسی آنکھیں جبیں ہونٹ ابرو کہ باقی نہ تھا کچھ بھی فرق من و تو وہی چال آواز قد رنگ مدھم وہی طرز گفتار ٹھہراؤ کم کم خدا جانے کیا کیا مشاغل تھے اس کے مرے پاس ...

مزید پڑھیے

بے ننگ و نام

رات ڈھلتے ہی اک آواز چلی آتی ہے بھول بھی جاؤ کہ میں نے تمہیں چاہا کب تھا کس صنوبر کے تلے میں نے قسم کھائی تھی کوئی طوفاں کسی پونم میں اٹھایا کب تھا میری راتوں کو کسی درد سے نسبت کیا تھی میری صبحوں کو دعاؤں سے علاقہ کب تھا ایک محمل کے سرہانے کوئی رویا تھا ضرور پس محفل کسی لیلیٰ نے ...

مزید پڑھیے

آب و گل

مجھے یاد پڑتا ہے اک عمر گزری لگاوٹ کی شبنم میں لہجہ ڈبو کر کوئی مجھ کو آواز دیتا تھا اکثر بلاوے کی معصومیت کے سہارے میں آہستہ آہستہ پہنچا یہاں تک بہ ہر سمت انبوہ آوارگاں تھا بڑے چاؤ سے میں نے اک اک سے پوچھا ''کہو کیا تم ہی نے پکارا تھا مجھ کو کہو کیا تم ہی نے پکارا تھا مجھ کو'' مگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 720 سے 5858