شاعری

مجھ کو کہاں یہ ہوش تری جلوہ گاہ میں

مجھ کو کہاں یہ ہوش تری جلوہ گاہ میں جلوے میں ہے نگاہ کہ جلوہ نگاہ میں وہ کیا نگاہ جو نہ کسی دل میں گھر کرے وہ دل ہی کیا نہ ہو جو کسی کی نگاہ میں مجھ کو زمانے بھر کے غموں سے نجات ہے جب سے ہے میرا دل ترے غم کی پناہ میں پہلے گناہ گار تماشا ہوئی نگاہ لذت شریک پھر ہوا دل اس گناہ ...

مزید پڑھیے

نظر بہار نہ دیکھے تو بے قرار نہ ہو

نظر بہار نہ دیکھے تو بے قرار نہ ہو خزاں سکون سے گزرے اگر بہار نہ ہو نگاہ دل میں جو رنگینیٔ بہار نہ ہو گناہ گار تماشا گناہ گار نہ ہو فریب نکہت و رنگ آگہی شکار نہ ہو کرشمہ کار چمن میں اگر بہار نہ ہو خزاں کے جور مسلسل پہ بے قرار نہ ہو بہار دیکھ مگر خوگر بہار نہ ہو بجا ہے غنچے کا جوش ...

مزید پڑھیے

زندگانی کا کیا کریں صاحب

زندگانی کا کیا کریں صاحب رائیگانی کا کیا کریں صاحب آپ کے حکم کے غلام ہوئے حکمرانی کا کیا کریں صاحب دل کے کھنڈرات ہم کو کافی ہیں راجدھانی کا کیا کریں صاحب ہم مکانوں کی قید کے پنچھی لا مکانی کا کیا کریں صاحب ظالموں کی مہان بستی میں شادمانی کا کیا کریں صاحب باغ سناٹا دھول اور ...

مزید پڑھیے

سوئے پانی کے تلے ڈوبے ہوئے پیکر لکھیں

سوئے پانی کے تلے ڈوبے ہوئے پیکر لکھیں آئینہ خانے میں گزری ساعتوں کے گھر لکھیں آنکھ کی پتلی میں ٹھہری خواہشوں کے رنگ سے جو نہ ہو محسوس ایسی بات چہرے پر لکھیں دستکیں دیتی ہے کچے جسم پر موج صبا وقت کے آب رواں پہ عکس کے پیکر لکھیں بھیگے ہونٹوں پر ہوا کے گرم بوسے ثبت ہیں سرد کمرے ...

مزید پڑھیے

گمشدہ خیال کا تذکرہ

بھڑک بھڑک کے صداؤں نے رہ دکھائی مجھے ہزار سنگ سفر ہم سفر بنے بگڑے یہ آرزو ہے کہ خواہش کا کوئی پھل نہ گرے مسافرت کے سمندر میں سب کو تنہا کروں وہ مجھ سے چھپتا پھرے اور میں اس کو دیکھا کروں نمائش غم صحرا میں اس پہ سایا کروں بہ رنگ خواب رکے پانیوں کو چکھا کروں پرائے باغوں پہ ابر رواں ...

مزید پڑھیے

عشق میں ایسی کرامات کہاں تھی پہلے

عشق میں ایسی کرامات کہاں تھی پہلے آپ کے حسن میں یہ بات کہاں تھی پہلے اب یہ صورت ہے کہ امکاں ہی نہیں فرقت کا ان سے دن رات ملاقات کہاں تھی پہلے عکس نے دیکھ لیا حسن کو آئینے میں عشق میں ایسی کرامات کہاں تھی پہلے رنگ لایا ہے یہ اس گل کا تصور شاید ورنہ رنگینیٔ جذبات کہاں تھی ...

مزید پڑھیے

میرؔ کا سوز بیاں ہو تو غزل ہوتی ہے

میرؔ کا سوز بیاں ہو تو غزل ہوتی ہے داغؔ کا لطف زباں ہو تو غزل ہوتی ہے دل تو روئے مگر آنکھوں میں تبسم جھلکے یہ اگر رنگ فغاں ہو تو غزل ہوتی ہے دوست کی یاد میں جذبات پہ آتا ہے نکھار ہجر کی رات جواں ہو تو غزل ہوتی ہے یک نفس سوز سے ممکن نہیں تکمیل غزل ہر نفس شعلہ بجاں ہو تو غزل ہوتی ...

مزید پڑھیے

ہر اک قدم پہ زخم نئے کھائے کس طرح

ہر اک قدم پہ زخم نئے کھائے کس طرح رندوں کی انجمن میں کوئی جائے کس طرح صحرا کی وسعتوں میں رہا عمر بھر جو گم صحرا کی وحشتوں سے وہ گھبرائے کس طرح جس نے بھی تجھ کو چاہا دیا اس کو تو نے غم دنیا ترے فریب کوئی کھائے کس طرح زنداں پہ تیرگی کے ہیں پہرے لگے ہوئے پر ہول خواب گاہ میں نیند آئے ...

مزید پڑھیے

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے دوشیزگان صبح نے چہرے چھپا لیے ہم نے تو اپنے جسم پہ زخموں کے آئینے ہر حادثے کی یاد سمجھ کے سجا لیے میزان عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے لوگوں کی چادروں پہ ...

مزید پڑھیے

آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اٹ گئی

آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اٹ گئی دیوار سے لگی تری تصویر پھٹ گئی لمحوں کی تیز دوڑ میں میں بھی شریک تھا میں تھک کے رک گیا تو مری عمر گھٹ گئی اس زندگی کی جنگ میں ہر اک محاذ پر میرے مقابلے میں مری ذات ڈٹ گئی سورج کی برچھیوں سے مرا جسم چھد گیا زخموں کی سولیوں پہ مری رات کٹ گئی احساس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 700 سے 5858