مجھ کو کہاں یہ ہوش تری جلوہ گاہ میں
مجھ کو کہاں یہ ہوش تری جلوہ گاہ میں جلوے میں ہے نگاہ کہ جلوہ نگاہ میں وہ کیا نگاہ جو نہ کسی دل میں گھر کرے وہ دل ہی کیا نہ ہو جو کسی کی نگاہ میں مجھ کو زمانے بھر کے غموں سے نجات ہے جب سے ہے میرا دل ترے غم کی پناہ میں پہلے گناہ گار تماشا ہوئی نگاہ لذت شریک پھر ہوا دل اس گناہ ...