شاعری

لہو میں ڈوب کے تلوار میرے گھر پہنچی

لہو میں ڈوب کے تلوار میرے گھر پہنچی وہ سر بلند ہوں دستار میرے گھر پہنچی پہاڑ کھودا تو جز پتھروں کے کچھ نہ ملا مرے پسینے کی مہکار میرے گھر پہنچی شجر نے تند ہواؤں سے دوستی کر لی شکستہ پتوں کی بوچھار میرے گھر پہنچی مرے مکان سے کرنوں کی ڈار ایسی اڑی ہر اک بلائے پراسرار میرے گھر ...

مزید پڑھیے

جلتے جلتے بجھ گئی اک موم بتی رات کو

جلتے جلتے بجھ گئی اک موم بتی رات کو مر گئی فاقہ زدہ معصوم بچی رات کو آندھیوں سے کیا بچاتی پھول کو کانٹوں کی باڑ صحن میں بکھری ہوئی تھی پتی پتی رات کو کتنا بوسیدہ دریدہ پیرہن ہے زیب تن وہ جو چرخہ کاٹتی رہتی ہے لڑکی رات کو صحن میں اک شور سا ہر آنکھ ہے حیرت زدہ چوڑیاں سب توڑ دیں ...

مزید پڑھیے

گاؤں گاؤں خاموشی سرد سب الاؤ ہیں

گاؤں گاؤں خاموشی سرد سب الاؤ ہیں رہرو رہ ہستی کتنے اب پڑاؤ ہیں رات کی عدالت میں جانے فیصلہ کیا ہو پھول پھول چہروں پہ ناخنوں کے گھاؤ ہیں اپنے لاڈلوں سے بھی جھوٹ بولتے رہنا زندگی کی راہوں میں ہر قدم پہ داؤ ہیں روشنی کے سوداگر ہر گلی میں آ پہنچے زندگی کی کرنوں کے آسماں پہ بھاؤ ...

مزید پڑھیے

جب سماعت ہی نہ ہو اس کی تو ہے بیکار شرح

جب سماعت ہی نہ ہو اس کی تو ہے بیکار شرح کیا کروں دل بر میں تجھ سے اپنا حال زار شرح دم بخود ہوں کچھ نہیں کہتا ہوں رعب حسن سے چپ کھڑا ہوں حال اپنا کرتے ہیں اغیار شرح دل میں ہے اس رشک یوسف کی خریداری کا شوق میرے راز عشق کی اب ہے سر بازار شرح نوش داروئے شفا سمجھے جو مرگ عشق کو کیا ...

مزید پڑھیے

بادۂ عشق سے سرشار گرو نانک تھے

بادۂ عشق سے سرشار گرو نانک تھے عابد و زاہد و دیں دار گرو نانک تھے رہ تاریک ضلالت میں پئے خلق خدا شمع سا مظہر انوار گرو نانک تھے حق پرستی کے تصور سے ہمیشہ خوش تھے کفر اور شرک سے بیزار گرو نانک تھے تربیت خلق کی کرتے تھے بڑی کوشش سے اس کے ہر حال میں غم خوار گرو نانک تھے ابر نیساں ...

مزید پڑھیے

مسافروں میں ابھی تلخیاں پرانی ہیں

مسافروں میں ابھی تلخیاں پرانی ہیں سفر نیا ہے مگر کشتیاں پرانی ہیں یہ کہہ کے اس نے شجر کو تنے سے کاٹ دیا کہ اس درخت میں کچھ ٹہنیاں پرانی ہیں ہم اس لیے بھی نئے ہم سفر تلاش کریں ہمارے ہاتھ میں بیساکھیاں پرانی ہیں عجیب سوچ ہے اس شہر کے مکینوں کی مکاں نئے ہیں مگر کھڑکیاں پرانی ...

مزید پڑھیے

زرد چہروں سے نکلتی روشنی اچھی نہیں

زرد چہروں سے نکلتی روشنی اچھی نہیں شہر کی گلیوں میں اب آوارگی اچھی نہیں زندہ رہنا ہے تو ہر بہروپئے کے ساتھ چل مکر کی تیرہ فضا میں سادگی اچھی نہیں کس نے اذن قتل دے کر سادگی سے کہہ دیا آدمی کی آدمی سے دشمنی اچھی نہیں جب مرے بچے مرے وارث ہیں ان کے جسم میں سوچتا ہوں حدت خوں کی کمی ...

مزید پڑھیے

لب اظہار پہ جب حرف گواہی آئے

لب اظہار پہ جب حرف گواہی آئے آہنی ہار لیے در پہ سپاہی آئے وہ کرن بھی تو مرے نام سے منسوب کرو جس کے لٹنے سے مرے گھر میں سیاہی آئے میرے ہی عہد میں سورج کی تمازت جاگے برف کا شہر چٹخنے کی صدا ہی آئے اتنی پر ہول سیاہی کبھی دیکھی تو نہ تھی شب کی دہلیز پہ جلنے کو دیا ہی آئے رہ رو منزل ...

مزید پڑھیے

ہمارے دل کے آئینے میں ہے تصویر نانک کی

ہمارے دل کے آئینے میں ہے تصویر نانک کی ہمارے کان کے پردے میں ہے تقریر نانک کی طریق راست سے ہٹ کر وہ ہرگز جا نہیں سکتا پڑی ہے پاؤں میں جس شخص کی زنجیر نانک کی بسر کی عمر اپنی گمرہوں کی رہنمائی میں یہی تھی روز و شب کوشش بھی اور تدبیر نانک کی مسخر کر لیا ہر شخص کو پند و نصیحت ...

مزید پڑھیے

ناوک زنی نگاہ کی اے جان جاں ہے ہیچ

ناوک زنی نگاہ کی اے جان جاں ہے ہیچ جب تیر ہی نہ پار ہوا تو کماں ہے ہیچ دیر و حرم بھی ہیچ ہیں اور ہیچ باغ و راغ کوئی جگہ ہو بے ترے اے لا مکاں ہے ہیچ فردوس ہم کو سایۂ دامان یار ہے دنیا کی اصل کچھ نہیں باغ جناں ہے ہیچ کچھ موت کا نہ غم ہے نہ کچھ راحت حیات کوچے میں اس کے مجھ کو بہار و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 701 سے 5858