شاعری

جس طرف حال جنوں میں تیرے دیوانے گئے

جس طرف حال جنوں میں تیرے دیوانے گئے پیچھے پیچھے پیروی میں سارے فرزانے گئے امتحاں کا وقت ہے آؤ مدد کے واسطے پھر نہ کہنا ہم غلط نظروں سے پہچانے گئے شیخ صاحب اپنی عزت آپ اپنے ہاتھ ہے محفل رنداں میں کیوں پھر وعظ فرمانے گئے دیکھیے اس طرح پیمان وفا پورا ہوا شمع جب روشن ہوئی مرنے کو ...

مزید پڑھیے

نمود رنگ سے بیگانہ وار آئی ہے

نمود رنگ سے بیگانہ وار آئی ہے خزاں کا بھیس بدل کر بہار آئی ہے ملول و مضمحل و بے قرار آئی ہے کوئی بتائے یہ کیسی بہار آئی ہے اسیر خانۂ گلچیں ہیں رنگ و بو اے دوست یہ کس کے عہد میں ایسی بہار آئی ہے سہاگ ادھ کھلی کلیوں کا کس نے لوٹ لیا بہار کس لئے یوں سوگوار آئی ہے چمن فسردہ گل ...

مزید پڑھیے

گزر جائیں گے یہ دن بے بسی کے

گزر جائیں گے یہ دن بے بسی کے زمانے لوٹ آئیں گے خوشی کے اٹھو اور بندگی کر لو خدا کی گزر جائیں نہ لمحے بندگی کے خدا کی ذات پر رکھیں بھروسہ بھرے گا وہ خزانے ہر کسی کے ہمیشہ واسطہ نیکی سے رکھنا نہ جانا پاس ہرگز تم بدی کے ہوئی ہے شمع گل اب پیار والی جلیں کیسے دیے اب زندگی کے بھروسہ ...

مزید پڑھیے

کبھی وہ رنج کے سانچے میں ڈھال دیتا ہے

کبھی وہ رنج کے سانچے میں ڈھال دیتا ہے کبھی خوشی وہ مجھے بے مثال دیتا ہے جواب سوچتی رہتی ہوں میں کئی دن تک وہ اک سوال ہوا میں اچھال دیتا ہے ہمارے پیار سا دنیا میں پیار سب کا ہو ہمارے پیار کی یہ جگ مثال دیتا ہے کسی کو رنگ بناتا ہے وہ سداما سا کسی کو دولت و جاہ و جلال دیتا ہے جو مجھ ...

مزید پڑھیے

ترے آنگن میں ہے جو پیڑ پھولوں سے لدا ہوگا

ترے آنگن میں ہے جو پیڑ پھولوں سے لدا ہوگا ترے گھر کا جو رستہ ہے بڑا ہی خوش نما ہوگا گوارا کب مجھے ہوگا کسی احساس کا ڈھونا ہے قرضہ اس جنم کا اس جنم میں ہی ادا ہوگا نہ جانے کب مرے بھارت میں وہ سرکار آئے گی کہ جس سرکار کے ہاتھوں غریبوں کا بھلا ہوگا وہ لمحے زندگی کے جو ترے ہمراہ گزرے ...

مزید پڑھیے

سارا جہان چھوڑ کے تم سے ہی پیار تھا

سارا جہان چھوڑ کے تم سے ہی پیار تھا تم جو بھی کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا تقریر نیتا جی نے جو بستی میں آج کی اس کا ہر ایک لفظ ہمیں ناگوار تھا گھر میں خدا کے دیر ہے اندھیر تو نہیں رحمت کے در کھلیں گے یہی انتظار تھا اس کو ہماری چاہ کی کچھ بھی خبر نہیں جس کے لئے ہمارا یہ دل بے قرار ...

مزید پڑھیے

غرق غم ہوں تری خوشی کے لئے

غرق غم ہوں تری خوشی کے لئے یہی سجدہ ہے بندگی کے لئے ہر کسی کے لئے غم عشرت عشرت غم کسی کسی کے لئے نقش منزل ہے ذرے ذرے میں رہ نوردان آگہی کے لئے جب سے اپنا سمجھ لیا سب کو مل گئے کام زندگی کے لئے اب نگاہوں میں وہ سمائے ہیں اب نگاہیں نہیں کسی کے لئے یہ جہاں غم کدہ سہی لیکن اک تماشا ...

مزید پڑھیے

وہ روبرو ہوں تو یہ کیف اضطراب نہ ہو

وہ روبرو ہوں تو یہ کیف اضطراب نہ ہو خدا کرے نگہ شوق کامیاب نہ ہو سوال کیا ہو کہ ان کی خموش نظروں میں نہ دے سکے جو وہ اب تک وہی جواب نہ ہو یہ کیا گماں ہے کہ وقت سحر کی بیداری جو رات بیت چکی ہے اسی کا خواب نہ ہو یہ انحطاط جنوں یہ خرد کی سست روی کہیں یہ خامشی از قبل انقلاب نہ ہو کہیں ...

مزید پڑھیے

اندوہ بیش و کم نہ غم خیر و شر میں ہے

اندوہ بیش و کم نہ غم خیر و شر میں ہے راز حیات وسعت فکر و نظر میں ہے وہ مستئ نظر ہے اسی دل کی پاسدار جو دل بہ روئے کار گناہ نظر میں ہے اس کا خیال اس کا تصور اسی کی یاد کوئی نہیں نظر میں وہ جب سے نظر میں ہے کیف آشنا تھی زیست کبھی جس کی دید سے وہ چشم مست آج بھی میری نظر میں ہے کیسا ...

مزید پڑھیے

داغ حسن قمر بھی ہوتا ہے

داغ حسن قمر بھی ہوتا ہے عیب رشک ہنر بھی ہوتا ہے عشق اے حسن بے بصر ہی سہی یہ حقیقت نگر بھی ہوتا ہے حسن ہوتا ہے کچھ تو حسن نظر کچھ فریب نظر بھی ہوتا ہے توڑ ڈالے جو دل کا آئینہ وہی آئینہ گر بھی ہوتا ہے دورئ رنگ و بو ہزار سہی ہجر پیغام بر بھی ہوتا ہے ہائے طول حیات عشق سحابؔ کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 699 سے 5858