شاعری

شاید میں زندگی کی سحر لے کے آ گیا

شاید میں زندگی کی سحر لے کے آ گیا قاتل کو آج اپنے ہی گھر لے کے آ گیا تا عمر ڈھونڈھتا رہا منزل میں عشق کی انجام یہ کہ گرد سفر لے کے آ گیا نشتر ہے میرے ہاتھ میں کاندھوں پہ مے کدہ لو میں علاج درد جگر لے کے آ گیا فاکرؔ صنم کدے میں نہ آتا میں لوٹ کر اک زخم بھر گیا تھا ادھر لے کے آ گیا

مزید پڑھیے

پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر کے ہی انساں پائے ہیں

پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر کے ہی انساں پائے ہیں تم شہر محبت کہتے ہو ہم جان بچا کر آئے ہیں بت خانہ سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے ہم لوگ وہیں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں ہم سوچ رہے ہیں مدت سے اب عمر گزاریں بھی تو کہاں صحرا میں خوشی کے پھول نہیں شہروں میں غموں کے ...

مزید پڑھیے

الفت کا جب کسی نے لیا نام رو پڑے

الفت کا جب کسی نے لیا نام رو پڑے اپنی وفا کا سوچ کے انجام رو پڑے ہر شام یہ سوال محبت سے کیا ملا ہر شام یہ جواب کہ ہر شام رو پڑے راہ وفا میں ہم کو خوشی کی تلاش تھی دو گام ہی چلے تھے کہ ہر گام رو پڑے رونا نصیب میں ہے تو اوروں سے کیا گلہ اپنے ہی سر لیا کوئی الزام رو پڑے

مزید پڑھیے

اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں

اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں ہم ان کے لیے زندگانی لٹا دیں ہر اک موڑ پر ہم غموں کو سزا دیں چلو زندگی کو محبت بنا دیں اگر خود کو بھولے تو کچھ بھی نہ بھولے کہ چاہت میں ان کی خدا کو بھلا دیں کبھی غم کی آندھی جنہیں چھو نہ پائے وفاؤں کے ہم وہ نشیمن بنا دیں قیامت کے دیوانے کہتے ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

تم نہ گھبراؤ مرے زخم جگر کو دیکھ کر

تم نہ گھبراؤ مرے زخم جگر کو دیکھ کر میں نہ مر جاؤں تمہاری چشم تر کو دیکھ کر زخم تازہ کر رہا ہوں چارہ گر کو دیکھ کر راستہ میں نے بدل ڈالا خضر کو دیکھ کر زندگانی اک فریب دائمی ہے سر بسر مجھ پہ یہ ظاہر ہوا شام و سحر کو دیکھ کر گرچہ ان سے کوئی امید وفا مجھ کو نہیں جی بہل جاتا ہے پھر ...

مزید پڑھیے

فلسفے عشق میں پیش آئے سوالوں کی طرح

فلسفے عشق میں پیش آئے سوالوں کی طرح ہم پریشاں ہی رہے اپنے خیالوں کی طرح شیشہ گر بیٹھے رہے ذکر مسیحا لے کر اور ہم ٹوٹ گئے کانچ کے پیالوں کی طرح جب بھی انجام محبت نے پکارا خود کو وقت نے پیش کیا ہم کو مثالوں کی طرح ذکر جب ہوگا محبت میں تباہی کا کہیں یاد ہم آئیں گے دنیا کو حوالوں کی ...

مزید پڑھیے

عشق میں غیرت جذبات نے رونے نہ دیا

عشق میں غیرت جذبات نے رونے نہ دیا ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا آپ کہتے تھے کہ رونے سے نہ بدلیں گے نصیب عمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیں جن کو مجبورئ حالات نے رونے نہ دیا تجھ سے مل کر ہمیں رونا تھا بہت رونا تھا تنگیٔ وقت ملاقات ...

مزید پڑھیے

گزرے لمحوں کے دوبارہ پنے کھول رہی ہوں میں

گزرے لمحوں کے دوبارہ پنے کھول رہی ہوں میں تھوڑے قصے یاد ہیں مجھ کو تھوڑے بھول گئی ہوں میں روز صبح اٹھ جایا کرتے ہیں مجھ میں کردار کئی پر بستر سے خود کو تنہا اٹھتے دیکھ رہی ہوں میں سوچا ہے میں درد چھپا لوں گی اپنے آسانی سے سینے میں جاسوس چھپا ہے یہ کیوں بھول رہی ہوں میں ایک سبب ...

مزید پڑھیے

لاکھ بدلا بدل نہیں پائے

لاکھ بدلا بدل نہیں پائے آئنے سے نکل نہیں پائے یوں تو دنیا جہان گھومے مگر لوگ گھر سے نکل نہیں پائے سامنے تجھ کو یک بیک پا کر لفظ ہم سے سنبھل نہیں پائے کتنے موتی ابھی بھی ایسے ہیں سیپ سے جو نکل نہیں پائے کاغذی لوگ گل گئے کب کے ہم تھے پتھر سو گل نہیں پائے

مزید پڑھیے

دنیا سے وفا کر کے صلہ ڈھونڈ رہے ہیں

دنیا سے وفا کر کے صلہ ڈھونڈ رہے ہیں ہم لوگ بھی ناداں ہیں یہ کیا ڈھونڈ رہے ہیں کچھ دیر ٹھہر جائیے اے بندۂ انصاف ہم اپنے گناہوں میں خطا ڈھونڈ رہے ہیں یہ بھی تو سزا ہے کہ گرفتار وفا ہوں کیوں لوگ محبت کی سزا ڈھونڈ رہے ہیں دنیا کی تمنا تھی کبھی ہم کو بھی فاکرؔ اب زخم تمنا کی دوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 637 سے 5858