شاعری

دل کے دیوار و در پہ کیا دیکھا

دل کے دیوار و در پہ کیا دیکھا بس ترا نام ہی لکھا دیکھا تیری آنکھوں میں ہم نے کیا دیکھا کبھی قاتل کبھی خدا دیکھا اپنی صورت لگی پرائی سی جب کبھی ہم نے آئینہ دیکھا ہائے انداز تیرے رکنے کا وقت کو بھی رکا رکا دیکھا تیرے جانے میں اور آنے میں ہم نے صدیوں کا فاصلہ دیکھا پھر نہ آیا ...

مزید پڑھیے

کسی رنجش کو ہوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی

کسی رنجش کو ہوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی مجھ کو احساس دلا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی میرے رکتے ہی مری سانسیں بھی رک جائیں گی فاصلے اور بڑھا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی زہر پینے کی تو عادت تھی زمانے والو اب کوئی اور دوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی چلتی راہوں میں یوں ہی آنکھ لگی ہے فاکرؔ بھیڑ ...

مزید پڑھیے

کچھ تو دنیا کی عنایات نے دل توڑ دیا

کچھ تو دنیا کی عنایات نے دل توڑ دیا اور کچھ تلخئ حالات نے دل توڑ دیا this world's benefaction broke my heart to some extent and then by bitter circumstance partly my heart was rent ہم تو سمجھے تھے کے برسات میں برسے گی شراب آئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا showers of wine, I did think, would come with rainy clime but alas when it did rain my heart broke one more time دل تو روتا ...

مزید پڑھیے

سمجھتے تھے وہ، سمجھایا گیا ہے

سمجھتے تھے وہ، سمجھایا گیا ہے ہمیں ہم سے ہی ملوایا گیا ہے ہمارے نام کا بے نام حصہ کسی کے نام لکھوایا گیا ہے کبھی احسان کوئی کر گیا تھا برابر یاد دلوایا گیا ہے یہ آنکھیں نیند میں بھی جاگتی ہیں یہ کس کا ذکر دہرایا گیا ہے ہم اپنی گفتگو بھی تولتے ہیں ہمیں بیوپار سکھلایا گیا ہے

مزید پڑھیے

خوش نما پل کی گرفتاری کریں

خوش نما پل کی گرفتاری کریں آ کہ مل کر یہ سمجھ داری کریں ایک چھتری میں بچیں ہم دھوپ سے جو پہل دل میں ہے وہ ساری کریں آپ ہم دونوں پریشاں ہو لیے آئیے پھر سے وفاداری کریں جو جگا دے خوب صورت خواب سے ایسے سورج سے بھی کیا یاری کریں لان میں سب فیشنیبل پلانٹس ہیں ایک دو پھولوں کی بھی ...

مزید پڑھیے

اپنی نظروں میں ہارنا کب تک

اپنی نظروں میں ہارنا کب تک اس کو اکثر پکارنا کب تک اب تو کھل جانی چاہئے آنکھیں رات کو دن پکارنا کب تک فون کر ہی لیا تمہیں آخر شام بے کل گزارنا کب تک حوصلہ دیجے ہمتیں دیجے ڈوبتے کو ابھارنا کب تک اب جو کیجے وہ سب سہی کیجئے غلطیوں کو سدھارنا کب تک

مزید پڑھیے

اپنی مرضی کا رخ میں اپناؤں

اپنی مرضی کا رخ میں اپناؤں کاش میں بھی ہوا سی ہو جاؤں مان لینا کے تم خیال میں ہو جب بھی میں پھول جیسا مسکاؤں کیا کہا تم پہ میں یقیں کر لوں یعنی اک بار پھر بکھر جاؤں خواہشیں تو ہزار کر لوں میں کاش پوری بھی کوئی کر پاؤں چاند بھی جا رہا ہے اب سونے میں بھی اب تھوڑی دیر سو جاؤں

مزید پڑھیے

تمنائیں ٹھکانہ چاہتی ہیں

تمنائیں ٹھکانہ چاہتی ہیں ترے پہلو میں آنا چاہتی ہیں ذرا نزدیک آ کر بیٹھیے گا یہ آنکھیں آب و دانہ چاہتی ہیں بدن کے رنگ رخصت ہو رہے ہیں مگر سانسیں نبھانا چاہتی ہیں ہمیں پڑھنے کی چاہت اور کچھ ہے کتابیں کچھ پڑھانا چاہتی ہیں یہ دل وشواس کرنا چاہتا ہے نگاہیں سچ بتانا چاہتی ہیں

مزید پڑھیے

کبھی کبھی مجھے اتنا بھی تو نبھایا کر

کبھی کبھی مجھے اتنا بھی تو نبھایا کر کہ اپنے آپ کو کچھ دیر بھول جایا کر نہ چھت پہ چاند ٹکے گا نہ رات ٹھہرے گی ہر ایک خواب کو آنکھوں میں مت سجایا کر میں چاہتی ہوں کہ ہر روپ میں تجھے دیکھوں کبھی کبھی مری باتوں سے تنگ آیا کر تری پسند کی غزلیں میں لکھ تو دوں لیکن یہ شرط ہے کہ انہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 638 سے 5858