شاعری

یہ جو شیشہ ہے دل نما مجھ میں

یہ جو شیشہ ہے دل نما مجھ میں ٹوٹ جاتا ہے بارہا مجھ میں میں ترے ہجر کی گرفت میں ہوں ایک صحرا ہے مبتلا مجھ میں من مہکتا ہے کس کی خوشبو سے کون رہتا ہے پھول سا مجھ میں کتنے لمحات کا تھا اک لمحہ زندگی بھر رکا رہا مجھ میں اس کی آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے اور سیلاب آ گیا مجھ میں جب بھی اپنی ...

مزید پڑھیے

محبت سے گزر جانا ہمارا

محبت سے گزر جانا ہمارا نہ تھا آسان مر جانا ہمارا وہاں جب منتظر کوئی نہیں ہے نہیں بنتا ادھر جانا ہمارا ذرا تم وقت کی رفتار دیکھو کہاں ممکن ٹھہر جانا ہمارا تمہارے راستے میں آ گئے ہیں بہت مشکل ہے گھر جانا ہمارا کہانی کا تو رخ ہی موڑ دے گا کسی کردار پر جانا ہمارا ہماری جان خطرے ...

مزید پڑھیے

جیسے سوال میں ہو کوئی جواب سا

جیسے سوال میں ہو کوئی جواب سا رکھ کر چلا گیا وہ آنکھوں میں خواب سا ان سا حسین کوئی اس شہر میں نہیں آنکھیں شراب جیسی چہرہ کتاب سا کانٹا چبھو گیا وہ دل خون ہو گیا اک چہرہ لگ رہا تھا ہم کو گلاب سا آوارہ ہو گیا ہے اے دوست عشق بھی پھرتا ہے شہر جاں میں اب بے حجاب سا پیتا رہا ہوں آنسو ...

مزید پڑھیے

بالجبر

ہر طرف کترنیں ہیں وہ گڑیا یہیں تھی مگر اب دکھائی نہیں دے رہی اور یہ دھاگے، یقیناً وہ گیسو ہیں جن کے لیے میری راتیں کٹیں روئی دھنکی ہوئی ہے کہیں خون کا کوئی دھبہ نہیں اک طرف اس کی پوشاک ادھڑی پڑی ہے ادھر اس کی آنکھیں، کٹے ابروؤں سے الگ، خوف و دہشت میں لتھڑی ہوئی ہر طرف کترنیں ...

مزید پڑھیے

بے گھری

خواب کی سلطنت سے ادھر اک جہاں ہے جسے آنکھ آباد کر لے تو کر لے وہاں سائے ہی سائے ہیں اکثر و بیشتر دھوپ میں رقص کرتے ہوئے ریز گاری کی آواز پر دھڑکنیں تال دیتی ہیں تو جھلملاتے ہیں آنکھوں میں خواب (اپنا گھر اس کے دار الخلافے میں ہے) صبح سے شام تک نوٹ گنتی ہوئی انگلیاں یوں تھرکتی ...

مزید پڑھیے

Dimensions

وہی بہار و خزاں ہے مجھ میں بھی مجھ سے باہر بھی (آدمی سے الگ نہیں ہوں) شگوفے پھوٹیں تو خون میں گیت بولتے ہیں کبھی کبھی خار کی کھٹک ٹیس بن کے ہونٹوں سے جھانکتی ہے نجانے کتنے ہی گیت تھے جو بہار سے پہلے شاخ کی رگ میں جی رہے تھے جڑوں کا بخل ان کو کھا گیا ہے یہ خار، سوتیلے بیٹے شاخوں کے ان ...

مزید پڑھیے

شاعروں کا جبر

چائے کی بھاپ میں گھلتے، معدوم ہوتے ہوئے قہقہے شام کا بانکپن کوئی مصرع دھوئیں کے بگولوں میں کمپوز ہوتا ہوا کوئی نکتہ جو اسرار کے گھپ اندھیرے سے شعلہ صفت سر اٹھائے عجب دھیما دھیما نشہ اختلافات کا اپنے نچلے سروں میں کوئی فکر مربوط کرتا ہوا زاویہ طنز کے ناوک خوش سلیقہ کی سن ...

مزید پڑھیے

دیو مالائیں سچی ہوتی ہیں

گھڑی دو گھڑی کی مسرت یہ صدیوں پہ پھیلا ہوا دیو قصہ ہمارے لہو میں رواں ہے کسی گھونسلے میں سے انڈے چراتا ہوا سورما ایک چیتے سے گر سیکھتا کوئی بچہ کماں کھینچتا اور مادہ کو ناوک سے نیچے گراتا ہوا آگ دریافت کرتا ہوا کوئی لڑکا عجب صورتیں ہیں شب داستاں گوئی صدیوں پہ پھیلی ہوئی ہے ہوا ...

مزید پڑھیے

کہیں سے تم مجھے آواز دیتی ہو

غبار شام کے بے عکس منظر میں ہوا کی سائیں سائیں پنچھیوں کو ہانکتی ہے دور چرواہے کی بنسی میں ملن رس کا سریلا ذائقہ ہے، رات رستے میں کہاں سے تم مجھے آواز دیتی ہو! مسلسل آہٹیں میری سماعت ہی نہ لے جائیں بچا رکھے ہوئے آنسو کی بینائی ٹپکتی ہے انہیں لفظوں کی لو میں رات کٹتی ہے جنہیں ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں وہ کدھر نہیں رہتا

کیا کہوں وہ کدھر نہیں رہتا ہاں مگر اس نگر نہیں رہتا تو ہو تیرا خیال ہو یا خواب کوئی بھی رات بھر نہیں رہتا جب سکوں ہی نہ دے سکے تو پھر گھر کسی طور گھر نہیں رہتا جس گھڑی چاہو تم چلے آؤ میں کوئی چاند پر نہیں رہتا یوں تو اپنی بھی جستجو ہے مجھے تجھ سے بھی بے خبر نہیں رہتا دل فگاروں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 595 سے 5858