شاعری

اپنی سالگرہ پر

گئے برسوں اک حاصل کیا! فقط اک موم بتی تین سو پینسٹھ دنوں میں کیک کے زینے پہ چڑھتی ہے ذرا سی پھونک پر ہم راہیوں کے ساتھ بجھتی ہے دھواں چکرا کے روشن دان سے باہر نکلتا ہے چھری کی دھار سے کتنے برس کاٹوں! ہوا کا آشنا چہرہ مری آنکھوں میں رہتا ہے گئے لمحوں کو دہراتی ہوا طرز محبت ہے وہ آئے ...

مزید پڑھیے

ساربان

کھجوروں سے مہکی ہوئی شام تھی شتر پر مال و اسباب تھا اور میں اک سرائے کے در پر کھڑا رات کرنے کو اک بوریے کا طلب گار تھا ٹمٹماتی ہوئی شمع کی لو میں ابن تمامہ کا سایہ (جو ماحول گھیرے ہوئے تھا) اسے دیکھ کر یوں لگا جیسے وہ روشنی پھانکتا ہو قوی الجسامت حریص آنکھ سے لحظہ لحظہ ٹپکتی کمینی ...

مزید پڑھیے

کہاں آ گئی ہو

چند سال اس طرف ہم شناسا نگاہوں سے بچتے بچاتے یہیں پر ملے تھے تمہیں یاد ہے کائنات ایک ٹیبل کے چاروں طرف گھومتی تھی ہمیں دیکھ کر کتنے بوڑھوں کی آنکھیں کسی یاد رفتہ میں نم ہو رہی تھی مگر میں نے آنکھوں میں اپنے لیے اور تمہارے لیے مچھلیوں کی طرح تیرتے آنسوؤں میں تمنائیں دیکھیں مجھے ...

مزید پڑھیے

ایک بزرگ شاعر پرندے کا تجربہ

عزیزو! اگر رات رستے میں آئے اگر دانہ و دام کا سحر جاگے اگر اڑتے اڑتے کسی روز تم آشیاں بھول جاؤ تو پچھلی کہانی میں موجود جگنو سے دھوکا نہ کھانا کہانی، نہیں دیکھتی غم کے نم کو کہانی نہیں جانتی کیف و کم کو کہانی کو وہم و گماں کی کٹھن راہ سے کون روکے کہانی کا پیرایہ خواہش کا قیدی ...

مزید پڑھیے

کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہے

کب کھلے گا کہ فلک پار سے آگے کیا ہے کس کو معلوم کہ دیوار سے آگے کیا ہے ایک طرہ سا تو میں دیکھ رہا ہوں لیکن کوئی بتلائے کہ دستار سے آگے کیا ہے ظلم یہ ہے کہ یہاں بکتا ہے یوسف بے دام اور نہیں جانتا بازار سے آگے کیا ہے سر میں سودا ہے کہ اک بار تو دیکھوں جا کر سر میدان سجی دار سے آگے ...

مزید پڑھیے

نہ دیکھیں تو سکوں ملتا نہیں ہے

نہ دیکھیں تو سکوں ملتا نہیں ہے ہمیں آخر وہ کیوں ملتا نہیں ہے محبت کے لیے جذبہ ہے لازم یہ آئینہ تو یوں ملتا نہیں ہے ہم اک مدت سے در پر منتظر ہیں مگر اذن جنوں ملتا نہیں ہے ہے جتنا ظرف اتنی پاسداری ضرورت ہے فزوں ملتا نہیں ہے عجب ہوتی ہے آئندہ ملاقات ہمیشہ جوں کا توں ملتا نہیں ...

مزید پڑھیے

یقیں سے جو گماں کا فاصلہ ہے

یقیں سے جو گماں کا فاصلہ ہے زمیں سے آسماں کا فاصلہ ہے ہوا پیمائی کی خواہش ہے اتنی کہ جتنا بادباں کا فاصلہ ہے خیالات اس قدر ہیں مختلف کیوں ہمارے درمیاں کا فاصلہ ہے کوئی اظہار کر سکتا ہے کیسے یہ لفظوں سے زباں کا فاصلہ ہے میں اس تک کس طرح پہنچوں گا تابشؔ یہاں سے اس جہاں کا فاصلہ ...

مزید پڑھیے

ہمارا ڈوبنا مشکل نہیں تھا

ہمارا ڈوبنا مشکل نہیں تھا نظر میں دور تک ساحل نہیں تھا کہاں تھا گفتگو کرتے ہوئے وہ وہ تھا بھی تو سر محفل نہیں تھا میں اس کو سب سے بہتر جانتا ہوں جسے میرا پتہ حاصل نہیں تھا زمانے سے الگ تھی میری دنیا میں اس کی دوڑ میں شامل نہیں تھا وہ پتھر بھی تھا کتنا خوبصورت جو آئینہ تھا لیکن ...

مزید پڑھیے

عجیب صبح تھی دیوار و در کچھ اور سے تھے

عجیب صبح تھی دیوار و در کچھ اور سے تھے نگاہ دیکھ رہی تھی کہ گھر کچھ اور سے تھے وہ آشیانے نہیں تھے جہاں پہ چڑیاں تھیں شجر کچھ اور سے ان پر ثمر کچھ اور سے تھے تمام کشتیاں منجدھار میں گھری ہوئی تھیں ہر ایک لہر میں بنتے بھنور کچھ اور سے تھے بہت بدل گیا میدان جنگ کا نقشہ وہ دھڑ کچھ ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ کر عہد تمنا کی طرح

ٹوٹ کر عہد تمنا کی طرح معتبر ہم رہے فردا کی طرح شوق منزل تو بہت ہے لیکن چلتے ہیں نقش کف پا کی طرح جا ملیں گے کبھی گلزاروں سے پھیلتے جائیں گے صحرا کی طرح دیکھ کر حال پریشاں اپنا ہم بھی ہنس لیتے ہیں دنیا کی طرح کبھی پایاب کبھی طوفانی ہم بھی ہیں دشت کے دریا کی طرح محفل ناز میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 596 سے 5858