شاعری

دل محبت میں مبتلا ہو جائے

دل محبت میں مبتلا ہو جائے جو ابھی تک نہ ہو سکا ہو جائے تجھ میں یہ عیب ہے کہ خوبی ہے جو تجھے دیکھ لے ترا ہو جائے خود کو ایسی جگہ چھپایا ہے کوئی ڈھونڈھے تو لاپتا ہو جائے میں تجھے چھوڑ کر چلا جاؤں سایا دیوار سے جدا ہو جائے بس وہ اتنا کہے مجھے تم سے اور پھر کال منقطع ہو جائے دل بھی ...

مزید پڑھیے

تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا

تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ اس نے جس جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں چیختی تم ...

مزید پڑھیے

بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتا

بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتا ہمارے گاؤں میں برسات کیوں نہیں کرتا محاذ عشق سے کب کون بچ کے نکلا ہے تو بچ گیا ہے تو خیرات کیوں نہیں کرتا وہ جس کی چھاؤں میں پچیس سال گزرے ہیں وہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا میں جس کے ساتھ کئی دن گزار آیا ہوں وہ میرے ساتھ بسر رات کیوں نہیں ...

مزید پڑھیے

خواہشوں کی بادشاہی کچھ نہیں

خواہشوں کی بادشاہی کچھ نہیں دل میں شوق کج کلاہی کچھ نہیں کیوں عدالت کو شواہد چاہئیں کیا یہ زخموں کی گواہی کچھ نہیں صبح لکھی ہے اگر تقدیر میں رات کی پھر یہ سیاہی کچھ نہیں سوچ اپنی ذات تک محدود ہے ذہن کی کیا یہ تباہی کچھ نہیں ظرف شامل ہے ہمارے خون میں یہ تمہاری کم نگاہی کچھ ...

مزید پڑھیے

بڑھ رہا ہوں خیال سے آگے

بڑھ رہا ہوں خیال سے آگے کچھ نہیں ماہ و سال سے آگے بس حقیقت ہے جو نظر آیا ہے فسانہ جمال سے آگے میں ترے ہجر میں جو زندہ ہوں سوچتا ہوں وصال سے آگے اس قدر با کمال ہیں یہ لوگ کچھ کریں گے کمال سے آگے شوق صدمے سے ہو گیا دو چار بڑھ نہ پایا دھمال سے آگے یہ جو ماضی کی بات کرتے ہیں سوچتے ...

مزید پڑھیے

میں اس کی محبت سے اک دن بھی مکر جاتا

میں اس کی محبت سے اک دن بھی مکر جاتا کچھ اور نہیں ہوتا اس دل سے اتر جاتا جس شام گرفتاری قسمت میں مری آئی اس شام کی لذت سے میں اور بکھر جاتا خوشبو کے تعاقب نے زنجیر کیا مجھ کو ورنہ تو یہاں سے میں چپ چاپ گزر جاتا آواز سماعت تک پہنچی ہی نہیں شاید وہ ورنہ تسلی کو کچھ دیر ٹھہر ...

مزید پڑھیے

مجھ کو بھی حق ہے زندگانی کا

مجھ کو بھی حق ہے زندگانی کا میں بھی کردار ہوں کہانی کا جو مجھے آج پھر نظر آیا خواب ہے میری نوجوانی کا ہم کو درپیش ہے زمانے سے مسئلہ بخت کی گرانی کا کیوں نکلتا نظر نہیں آتا کچھ نتیجہ بھی خوش گمانی کا کل جو سیلاب آ گیا تو عظیمؔ ہم نے جانا مزاج پانی کا

مزید پڑھیے

اک وحشت سی در آئی ہے آنکھوں میں

اک وحشت سی در آئی ہے آنکھوں میں اپنی صورت دھندلائی ہے آنکھوں میں آج چمن کا حال نہ پوچھو ہم نفسو آج خزاں کی رت آئی ہے آنکھوں میں برسوں پہلے جس دریا میں اترا تھا اب تک اس کی گہرائی ہے آنکھوں میں ان باتوں پر مت جانا جو عام ہوئیں دیکھو کتنی سچائی ہے آنکھوں میں ان میں اب بھی حرف ...

مزید پڑھیے

قصۂ شب

سرخ آنکھیں گھماتے ہوئے بھیڑیے رات کا حسن ہیں سرسراتے ہوئے شاخچوں میں چھپے ماندہ پنچھی مصلے پہ بیٹھے ہوئے ریش دار اہل باطن پنگھوڑے میں کلکارتے نور چہرے یہ بستر بدلتی ہوئی لڑکیاں زہر اگلتے ہوئے سانپ دیوار پر جست کرتے ہوئے سائے لڑتی ہوئی بلیاں رات کا حسن ہیں اپنے سر پر یہ صدیوں سے ...

مزید پڑھیے

موسم گل بہار کے دن تھے

موسم گل بہار کے دن تھے جو ترے میرے پیار کے دن تھے جو ترے انتظار میں گزرے بس وہی انتظار کے دن تھے جو بہت بے قرار رکھتے تھے ہاں وہی تو قرار کے دن تھے جن دنوں دل پہ اختیار نہ تھا کیا وہی اختیار کے دن تھے تھے مقید تری محبت میں زندگی سے فرار کے دن تھے

مزید پڑھیے
صفحہ 594 سے 5858