شاعری

دل کی حالت بیاں نہیں ہوتی

دل کی حالت بیاں نہیں ہوتی خامشی جب زباں نہیں ہوتی حرف حسرت ہے تم نے کیا سمجھا زندگی داستاں نہیں ہوتی کیا مقابل ہو حسن جاناں کے چاندنی بے کراں نہیں ہوتی تم جو آؤ تو ہو جواں محفل ورنہ کب کہکشاں نہیں ہوتی حسن کی بے رخی ادا ٹھہری عاشقی بد گماں نہیں ہوتی بے قراری کی بس دوا تم ...

مزید پڑھیے

آگ سینوں میں جلا کر رکھیے

آگ سینوں میں جلا کر رکھیے خواب آنکھوں میں بسا کر رکھیے راحتوں سے لگے صدمے بھی ہیں دل کو مضبوط بنا کر رکھیے عید کا دن ہے گلے مل لیجے اختلافات ہٹا کر رکھیے نفرتیں دل سے نکل جائیں گی ہاتھ دشمن سے ملا کر رکھیے تاب زنجیر نہیں ہے دل کو زلف پیچاں کو سجا کر رکھیے یاد آ جائے گی دیوانے ...

مزید پڑھیے

شعر کہنے کی طبیعت نہ رہی

شعر کہنے کی طبیعت نہ رہی جس سے آمد تھی وہ صورت نہ رہی اس کی دہلیز سے اٹھ جاؤں مگر لوگ سوچیں گے محبت نہ رہی اب ملا عدل، گیا دور شباب منصفی تیری بھی وقعت نہ رہی وقت کی دوڑ میں رکنا تھا کٹھن سانس لینے کی بھی فرصت نہ رہی وقت دیدار عجب حکم ہوا ہوش کھونے کی اجازت نہ رہی تم سے جذبات ...

مزید پڑھیے

کیا کیجیئے رقم سند‌ احتشام زلف

کیا کیجیئے رقم سند‌ احتشام زلف ہے دفتر جمال پہ طغراے لام زلف خدمت ہو غازۂ گل رخ کی نسیم کو موج ہوا چمن میں کرے انتظام زلف فصل بہار آئی جنوں خیز دیکھیے سودائیوں کو آنے لگے پھر پیام زلف موذی جو سر چڑھا تو بنا مار آستیں سر پہ نہ چاہئے تھا بتوں کے مقام زلف سودائے زلف چین جبیں نے ...

مزید پڑھیے

پابند ہر جفا پہ تمہاری وفا کے ہیں

پابند ہر جفا پہ تمہاری وفا کے ہیں رحم اے بتو کہ ہم بھی تو بندے خدا کے ہیں گلچیں بہار گل میں نہ کر منع سیر باغ کیا ہم غبار دامن باد صبا کے ہیں یہ سادہ رو جو صاف نہیں رہتے شام وصل عاشق غبار دامن صبح خفا کے ہیں جس کو یقیں بقا کا ہو واعظ تری سنے ہم لوگ مست بادۂ جام فنا کے ہیں اے مہرؔ ...

مزید پڑھیے

پڑے ہیں مست بھی ساقی ایاغ کے نزدیک

پڑے ہیں مست بھی ساقی ایاغ کے نزدیک ہجوم پر ہیں پتنگے چراغ کے نزدیک ہمارے اشک مٹاتے ہیں داغ دل کی بہار یہ آب شور کی نہریں ہیں باغ کے نزدیک صفائی یار سے میلے میں ہو گئی اپنی ملال دور ہوا عیش باغ کے نزدیک وہ دل جلے ہیں کہ آئے مہرؔ ٹھنڈا کرنے کو ہوا نہ آ کے ہمارے چراغ کے نزدیک

مزید پڑھیے

نہ پہنچے چھوٹ کر کنج قفس سے ہم نشیمن تک

نہ پہنچے چھوٹ کر کنج قفس سے ہم نشیمن تک پر پرواز نے یاری نہ کی دیوار گلشن تک وہ بیدل ہوں کہ مجھ سے دوستی کرتا ہے دشمن تک وہ رہرو ہوں کہ مجھ کو راہ بتلاتا ہے رہزن تک پس مردن یہ اے مشاطۂ باد صبا کرنا ہماری خاک سرمہ بن کے پہنچے چشم روزن تک خزاں میں دیکھ لینا وادیٔ پر خار سے بد ...

مزید پڑھیے

مژگاں نے روکا آنکھوں میں دم انتظار سے

مژگاں نے روکا آنکھوں میں دم انتظار سے الجھے ہیں خار دامن باد بہار سے مطلب خزاں سے ہے نہ غرض ہے بہار سے ہم دل اٹھا چکے چمن روزگار سے یہ گل کھلا نہ لالہ رخوں کے فراق میں ہم داغ لے چلے چمن روزگار سے بسمل جو ہیں تو ہم ہیں تڑپتے جو ہیں تو ہم وہ خوش ہیں صید گاہ میں سیر شکار سے آغاز عشق ...

مزید پڑھیے

نظر میں لوچ نہ ہیجان منظروں میں ہے

نظر میں لوچ نہ ہیجان منظروں میں ہے عروش صبح ابھی شب کی چادروں میں ہے نہ سوچ تاجوروں کا مآل کیا ہوگا یہ دیکھ تیشہ بکف کون پتھروں میں ہے بھڑک رہی ہیں کناروں کی بستیاں اب تک بلا کی آگ ہمارے سمندروں میں ہے نگار خانۂ معنی سے سرسری نہ گزر لہو کا رنگ بھی دو چار منظروں میں ہے سکوت ...

مزید پڑھیے

ہیں مری قبر پہ وہ جلوہ نما میرے بعد

ہیں مری قبر پہ وہ جلوہ نما میرے بعد عشق کا میرے اثر ان پہ ہوا میرے بعد اور کچھ دیر مرے غم کی کہانی سن لو ورنہ پھر کون کرے گا یہ گلہ میرے بعد دیکھ اس گل کو کسی غیر کا دینا نہ پیام میں کہے دیتا ہوں اے باد صبا میرے بعد کیوں نہ خوش ہوں کہ غم ہجر سے مر کر چھوٹا اب جو آئیں بھی تو پھر لطف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5757 سے 5858