شاعری

لوگ ہر چند پند کرتے ہیں

لوگ ہر چند پند کرتے ہیں عاشقاں کب پسند کرتے ہیں جامہ زیباں دکھا کے قد اپنا دل عشاق بند کرتے ہیں نگہ گرم سیں سدا عاشق آتش دل بلند کرتے ہیں شوخ چشماں لے جانے کوں دل کے خم ابرو کمند کرتے ہیں جو کہ تجھ لعل لب کے طالب ہیں قند کوں کب پسند کرتے ہیں گر نہیں مسخرہ رقیب اس کوں لوگ کویں ...

مزید پڑھیے

گداز آتش غم سیں ہوئی ہیں باؤلی انکھیاں

گداز آتش غم سیں ہوئی ہیں باؤلی انکھیاں انجھو کے بھانت پانی ہو کے ماٹی میں رلی انکھیاں کریں گی قتل دل کوں آج تیغ ابرواں سیتی نپٹ خونیں ہیں ظالم ہم نیں تیری اٹکلی انکھیاں پئے دفع گزند ذو الفقار ابرو ترے مکھ پر مژہ کوں کر زباں کرتی ہیں دم ناد علی انکھیاں اگر دیکھیں بہار حسن کھل ...

مزید پڑھیے

شراب لعل لب دلبراں ہے مجھ کوں مباح

شراب لعل لب دلبراں ہے مجھ کوں مباح اب عیش و عشرت دونوں جہاں ہے مجھ کوں مباح یہی ہے فرق ہم اور تم منیں سن اے زاہد وہاں جو تجھ کو ملے گا یہاں ہے مجھ کوں مباح جنہوں کے تیر مژہ دل کوں پھوڑ چلتے ہیں وہ شوخ دلبر ابرو کماں ہے مجھ کوں مباح شراب و شاہد و خلوت سیاہ مستی ہوش اسی جہان منیں ...

مزید پڑھیے

اگر وہ گل بدن دریا نہانے بے حجاب آوے

اگر وہ گل بدن دریا نہانے بے حجاب آوے تعجب نہیں کہ سب پانی ستی بوئے گلاب آوے جدھاں دیکھوں بہاراں میں نشاط بلبل و قمری مجھے اس وقت بے شک یاد ایام شباب آوے مرا افسانہ و افسوں ترے کن سبز کیونکے ہو سیہ مژگاں تمہاری دیکھ کے سبزے کوں خواب آوے مری انکھیاں پھڑکتی ہیں یقیں ہے دل منیں ...

مزید پڑھیے

مست انکھیاں کا دیکھ دنبالہ (ردیف .. ا)

مست انکھیاں کا دیکھ دنبالہ دل مرا ہو گیا ہے متوالا لب ترے لعل ہیں بدخشاں کے دانت تیرے ہیں لولو اے لالہ دیکھ گلشن میں آتشیں رخسار داغ ہو جل گیا گل لالہ اشک دریا نمن نین سیں چلیں جب کروں درد دل ستی نالہ بر میں یکروؔ کے کیوں نہ آیا ہائے دے گیا مجھ کوں سرو قد بالا

مزید پڑھیے

مرا دل مبتلا ہے جھانولی کا

مرا دل مبتلا ہے جھانولی کا تری انکھیاں سلونی سانولی کا گیا تن سوکھ انکھیاں تر ہیں غم سیں ہوا ہوں شاہ خشکی و تری کا جبھی تو پان کھا کر مسکرایا تبھی دل کھل گیا گل کی کلی کا کہتا ہوں وصف دنداں و مسی کے مزا لیتا ہوں اب تل چاولی کا نہیں ہے ریختے کے بحر کا پار سمجھ مت شعر اس کوں پارسی ...

مزید پڑھیے

کیونکے کرے نہ شہر کو رو رو اجاڑ چشم

کیونکے کرے نہ شہر کو رو رو اجاڑ چشم طوفان ہے پہاڑ کوں ڈالی اکھاڑ چشم ندی کنار روکھ کا ہو ہے نہ باس راست رو کرے بہائے اشک سیں مژگاں کے جھاڑ چشم عاشق کا جان کیونکے بچے گا کہ آج دل خوں ہو تری نگاہ سیں نکسے ہے پھاڑ چشم وہ خوش نگاہ دل میں لگا کے گیا ہے آگ آنجھو ہوئے ہیں دانۂ بریان ...

مزید پڑھیے

تیرا ہی میں گدا ہوں میرا تو شاہ بس ہے (ردیف .. ')

تیرا ہی میں گدا ہوں میرا تو شاہ بس ہے مجھ شب کی روشنی کوں تجھ رخ کا ماہ بس ہے سرمہ سے گرد مژگاں صف باندھ کے بٹھی ہیں شاہ نین کوں تیری یو قبلہ گاہ بس ہے دل کی شکستگی سوں پایا ہوں بادشاہی کرنے کوں سروری کے ایسی کلاہ بس ہے محشر کے خور کی تپ سیں کچھ ڈر نہیں ہمن کوں زلف سیہ کا سایہ دل ...

مزید پڑھیے

دل اپنا یاد یار سے بیگانہ تو نہیں

دل اپنا یاد یار سے بیگانہ تو نہیں گویا کہ خالی مے سے یہ پیمانہ تو نہیں منتا ہے میری بات تو نظریں ملا کے سن یہ میرا حال زار ہے افسانہ تو نہیں ہنستے ہو مل کے دنیا سے کیا میرے حال پر میں آپ کا دیوانہ ہوں دیوانہ تو نہیں اے شمع تجھ کو جلنا ہے اب اس کی آگ میں اک شعلہ تجھ سے لپٹا ہے ...

مزید پڑھیے

تو جو آباد ہے اے دوست مرے دل کے قریب

تو جو آباد ہے اے دوست مرے دل کے قریب میری منزل بھی ہے گویا تری منزل کے قریب ڈوب جاتے ہیں تلاطم میں سفینے اکثر ڈوبتا اور ہی کچھ بات ہے ساحل کے قریب اٹھ گیا دورئ منزل کی تھکن کا احساس راہ کچھ اور کٹھن ہو گئی منزل کے قریب موت ہر بار رہائی میں مری مانع ہوئی لے گئی زیست تو اکثر مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5758 سے 5858