تصویر خوش آداب ہے دریا کے کنارے
تصویر خوش آداب ہے دریا کے کنارے یا حسن جہاں تاب ہے دریا کے کنارے اک گوہر خوش تاب ہے دریا کے کنارے یا دیدۂ بے خواب ہے دریا کے کنارے آنکھوں میں ہے اک جلوۂ شفاف مسلسل اور ذہن میں گرداب ہے دریا کے کنارے اس شوخ کی انگڑائی کا ہے عکس سر شام یا سایۂ محراب ہے دریا کے کنارے ہر آنکھ پئے ...