جیسے مدھوبن کی بالا
چہرہ اس کا سرخ گلاب ہونٹ بھرے یاقوت سے ہیں جھیل سی گہری کالی آنکھیں چاند جبیں پہ رہتا ہے زلفوں میں عنبر کی خوشبو تاج محل سا اس کا جسم غنچوں سے بھری ڈالی کی طرح وہ لہراتی بل کھاتی ہے بے خوفی بے فکری میں مست مگن سی رہتی ہے جیسے مدھوبن کی بالا جیسے حسینہ گاؤں کی جیسی حسرتؔ کی ...