پھیلے ہوئے غبار کا پھر معجزہ بھی دیکھ
پھیلے ہوئے غبار کا پھر معجزہ بھی دیکھ رستے سے جو بھٹک گیا وہ قافلہ بھی دیکھ میں نے تو آسمان کو ٹھوکر پہ رکھ لیا ذرے میں کائنات کا یہ زاویہ بھی دیکھ کب تک تو سارے شہر کو بونا بتائے گا خود پر بھی کر نگاہ کبھی آئینہ بھی دیکھ میرے لبوں پہ دیکھ نہ تو خامشی کی مہر تو اپنی حرکتوں کا ...