اے دوست تری بات سحر خیز بہت ہے
اے دوست تری بات سحر خیز بہت ہے پر طرز تکلم ترا خوں ریز بہت ہے گم صم سا کھڑا ہے کوئی دروازۂ دل پر اس شام کا منظر تو دل آویز بہت ہے محفل میں ترے ہونے سے ہے رنگ پہ موسم احوال خاص و عام طرب خیز بہت ہے اک شخص جو الجھا ہے نئی فکر و نظر میں وہ صاحب خوش فہم ہے اور تیز بہت ہے جو بات تو کہتا ...