قیام دیر و طواف حرم نہیں کرتے
قیام دیر و طواف حرم نہیں کرتے زمانہ ساز تو کرتے ہیں ہم نہیں کرتے تمہاری زلف کو سلجھائیں گے وہ دیوانے جو اپنے چاک گریباں کا غم نہیں کرتے اتر چکا ہے رگ و پے میں زہر غم پھر بھی بہ پاس عہد وفا چشم نم نہیں کرتے یہ اپنا دل ہے کہ اس حال میں بھی زندہ ہیں ستم کچھ اہل ستم ہم پہ کم نہیں ...