دل مجھے سمجھاتا ہے تو دل کو سمجھاتا ہوں میں
دل مجھے سمجھاتا ہے تو دل کو سمجھاتا ہوں میں جانے کیسے عقل کی باتوں میں آ جاتا ہوں میں دن مجھے ہر دن بنا لیتا ہے اپنا یرغمال رات جب آتی ہے تو خود کو چھڑا لاتا ہوں میں کوئی جھوٹا وعدہ بھی کرتا نہیں ہے وہ کبھی خود امیدیں باندھ لیتا ہوں بہل جاتا ہوں میں زندہ رہنے کا مجھے فن آج تک ...