خود پر نہیں طیور کی اب دسترس کہ بس
خود پر نہیں طیور کی اب دسترس کہ بس مستی میں جا رہے ہیں یوں سوئے قفس کہ بس خواہش کہاں عروج سے اتری ہے زیر خاک مضبوط دور سے اسے اس طرح کس کہ بس مہکا ہوا وجود ہے روشن ہے میری خاک ایسے رواں ہے پھر تیری بوئے نفس کہ بس ہر دم ترے خیال نے نیلا کیا بدن سب زہر کھینچ لے مرا اس طرح ڈس کہ ...