کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہے
کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہے یہاں کیا ہم سا کوئی بے سر و سامان رہتا ہے در و دیوار سناٹے کی چادر میں ہیں خوابیدہ بھلا ایسی جگہ زندہ کوئی انسان رہتا ہے مسلسل پوچھنے پر ایک چلمن سے جواب آیا یہاں اک دل شکستہ صاحب دیوان رہتا ہے جھجک کر میں نے پوچھا کیا کبھی باہر نہیں ...