شاعری

کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہے

کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہے یہاں کیا ہم سا کوئی بے سر و سامان رہتا ہے در و دیوار سناٹے کی چادر میں ہیں خوابیدہ بھلا ایسی جگہ زندہ کوئی انسان رہتا ہے مسلسل پوچھنے پر ایک چلمن سے جواب آیا یہاں اک دل شکستہ صاحب دیوان رہتا ہے جھجک کر میں نے پوچھا کیا کبھی باہر نہیں ...

مزید پڑھیے

یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم

یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم اب اپنے آپ کو بھی چھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم کسی دہلیز پر آنکھوں کے یہ روشن دیئے رکھ کر ضمیر صبح کو جھنجھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم جدھر ہم جا رہے ہیں اس طرف ٹوٹا ہوا پل ہے یہ باگیں اس سے پہلے موڑ دینا چاہتے ہیں ہم یہ نوبت کل جو آنی ہے تو شرمندہ نہیں ...

مزید پڑھیے

کسی کو ہم سے ہیں چند شکوے کسی کو بے حد شکایتیں ہیں

کسی کو ہم سے ہیں چند شکوے کسی کو بے حد شکایتیں ہیں ہمارے حصے میں صرف اپنی صفائیاں ہیں وضاحتیں ہیں قدم قدم پر بدل رہے ہیں مسافروں کی طلب کے رستے ہواؤں جیسی محبتیں ہیں صداؤں جیسی رفاقتیں ہیں کسی کا مقروض میں نہیں پر مرے گریباں پہ ہاتھ سب کے کوئی مری چاہتوں کا دشمن کسی کو درکار ...

مزید پڑھیے

کشٹ

کیسے چلتے سمے وہ روئی گلے سے لگ کر بلک بلک کر پھر آنکھوں کو چومنا اس کا اچک اچک کر دور ہٹنا اور دیکھنا مجھ کو ٹھٹک ٹھٹک کر گر پڑنا پھر کھلی ہوئی بانہوں میں تھک کر شام جدائی ماں سے محبوبہ تک کتنے روپ تھے اس کے

مزید پڑھیے

فتح کا غم

اولیں شہر کی تسخیر میں پہلو تھے بہت رنج کے خوف کے حیرت کے شکیبائی کے پھر یہ دیکھا کہ تن و جاں کے اثاثے کے عوض مٹی ہم جس پہ قدم رکھتے ہیں جس کی ٹھوڑی پہ لہو رنگ علم رکھتے ہیں اس کی ممتا کی حرارت سے الگ چیز نہیں جس میں ہم اپنا نسب اپنا جنم رکھتے ہیں اپنے ہونے کا بھرم رکھتے ہیں

مزید پڑھیے

چرخ بھی چھو لیں تو جانا ہے اسی مٹی میں

چرخ بھی چھو لیں تو جانا ہے اسی مٹی میں مستقل اپنا ٹھکانا ہے اسی مٹی میں جن کے دامن پہ کبھی چاند ستارے چمکے دفن ان کا بھی فسانہ ہے اسی مٹی میں بے عمل ہاتھ لگائے بھی تو خالی جائے ہاں جفا کش کا خزانہ ہے اسی مٹی میں اس طرح چل کہ یہ پامال نہ ہونے پائے بے خبر آب ہے دانہ ہے اسی مٹی ...

مزید پڑھیے

کبھی جو آنکھوں میں پل بھر کو خواب جاگتے ہیں

کبھی جو آنکھوں میں پل بھر کو خواب جاگتے ہیں تو پھر مہینوں مسلسل عذاب جاگتے ہیں کسی کے لمس کی تاثیر ہے کہ برسوں بعد مری کتابوں میں اب بھی گلاب جاگتے ہیں برائی کچھ تو یقیناً ہے بے حجابی میں مگر وہ فتنے جو زیر نقاب جاگتے ہیں ستم شعارو ہمارا تم امتحان نہ لو ہمارے صبر سے صد انقلاب ...

مزید پڑھیے

مجھ سے مت پوچھ مرا حال دروں رہنے دے

مجھ سے مت پوچھ مرا حال دروں رہنے دے سن کے ٹپکے گا تری آنکھوں سے خوں رہنے دے فصل گل دشت خرد میں ہے اگرچہ موجود مجھ کو پا بستۂ زنجیر جنوں رہنے دے تو کرم مجھ پہ کرے گا تو جتائے گا ضرور حال جو میرا زبوں ہے تو زبوں رہنے دے سادگی سی کوئی زینت نہیں ہوتی جاناں اپنی ان شوخ اداؤں کا فسوں ...

مزید پڑھیے

جستجو نے تری ہر چند تھکا رکھا ہے

جستجو نے تری ہر چند تھکا رکھا ہے پھر بھی کیا غم کہ اسی میں تو مزہ رکھا ہے کچھ تو اپنی بھی طبیعت ہے گریزاں ان سے کچھ مزاج ان کا بھی بر دوش ہوا رکھا ہے کیا تجھے علم نہیں تیری رضا کی خاطر میں نے کس کس کو زمانے میں خفا رکھا ہے جب نظر اٹھی رخ یار پہ جا کر ٹھہری جیسے آنکھوں میں کوئی ...

مزید پڑھیے

روز روشن کو جو نسبت ہے سیہ رات کے ساتھ

روز روشن کو جو نسبت ہے سیہ رات کے ساتھ اس نے رشتہ وہی رکھا ہے مری ذات کے ساتھ کچھ نہ تھا بخت میں ناکام محبت کے سوا زندگی کاٹ دی میں نے اسی سوغات کے ساتھ شب کی شب ایک چراغاں کا سماں رہتا ہے شام آ جاتی ہے جب تیرے خیالات کے ساتھ ابر غم دل سے اٹھے از سر مژگاں برسے چشم گریاں کو عجب ربط ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5426 سے 5858