میں پریشاں ہوں ملیں چند نوالے کیسے
میں پریشاں ہوں ملیں چند نوالے کیسے اس کو دولت وہ ملی ہے کہ سنبھالے کیسے انگلیاں اپنی نگینوں سے سجانے والے تجھ کو لگتے ہیں مرے ہاتھ کے چھالے کیسے علم سے پھیر لیں تو نے جو نگاہیں اپنی پھر ترے ذہن میں پھوٹیں گے اجالے کیسے دیکھتے رہ گئے پانی کی روانی ہم لوگ راستے لوگوں نے دریا میں ...