وہی گماں ہے جو اس مہرباں سے پہلے تھا
وہی گماں ہے جو اس مہرباں سے پہلے تھا وہیں سے پھر یہ سفر ہے جہاں سے پہلے تھا ہے اس نگہ کا کرشمہ کہ میرے دل کا ہنر میں اس کے غم کا شناسا بیاں سے پہلے تھا وہ ایک لمحہ مجھے کیوں ستا رہا ہے کہ جو نہیں کے بعد مگر اس کی ہاں سے پہلے تھا میں خوش ہوں ہم سفروں نے کہ مجھ سے چھین لیا غرور رہروی ...