شاعری

فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے

فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے خراب شوق رہے وقف انتظار رہے اب اور کیا ترے وعدوں کا اعتبار رہے میں راز عشق کو رسوا کروں معاذ اللہ یہ بات اور ہے دل پر نہ اختیار رہے چمن میں رکھ تو رہا ہوں بنا نشیمن کی خدا کرے کہ زمانہ بھی سازگار رہے جنوں کا رخ ...

مزید پڑھیے

حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نے

حریم کعبہ بنا دی وہ سر زمیں میں نے ترے خیال میں رکھ دی جہاں جبیں میں نے مجھی کو پردۂ ہستی میں دے رہا ہے فریب وہ حسن جس کو کیا جلوہ آفریں میں نے چٹک میں غنچے کی وہ صوت جاں فزا تو نہیں سنی ہے پہلے بھی آواز یہ کہیں میں نے رہین منزل وہم و گماں رہا اخترؔ اسی میں ڈھونڈھ لیا جادۂ یقیں ...

مزید پڑھیے

دل و جاں ہم نثار کرتے ہیں

دل و جاں ہم نثار کرتے ہیں وہ نگاہوں سے وار کرتے ہیں حال دل جب انہیں سناتا ہوں آنکھ وہ اشک بار کرتے ہیں ہم نے ان سے کبھی گلہ نہ کیا وہ تو شکوے ہزار کرتے ہیں آ بھی جاؤ کہ تاب ضبط نہیں ہر گھڑی انتظار کرتے ہیں آنکھ ان سے لڑی ہے جب اخترؔ گل و بلبل سا پیار کرتے ہیں

مزید پڑھیے

اجالوں کی نمائش ہو رہی ہے

اجالوں کی نمائش ہو رہی ہے اندھیروں سے بھی سازش ہو رہی ہے کوئی منصف نہیں شاید میسر ستم گر سے جو نالش ہو رہی ہے وہ مانے یا نہ مانے اس کی مرضی منانے کی تو کاوش ہو رہی ہے ستم گر سے کوئی پوچھے تو اتنا یہ مجھ پر کیوں نوازش ہو رہی ہے ادب کی روک کر تعمیر خود ہی ترقی کی گزارش ہو رہی ...

مزید پڑھیے

کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک

کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک سمجھے نہ کہ سیدھی ہے مری راہ کہاں تک منطق بھی تو اک چیز ہے اے قبلہ و کعبہ دے سکتی ہے کام آپ کی واللہ کہاں تک افلاک تو اس عہد میں ثابت ہوئے معدوم اب کیا کہوں جاتی ہے مری آہ کہاں تک کچھ صنعت و حرفت پہ بھی لازم ہے توجہ آخر یہ گورنمنٹ سے تنخواہ کہاں ...

مزید پڑھیے

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی گزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھی عروس دہر کو آیا تھا پیار ہم پر بھی یہ بیسوا تھی کسی شب نثار ہم پر بھی بٹھا چکا ہے زمانہ ہمیں بھی مسند پر ہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی عدو کو بھی جو بنایا ہے تم نے محرم راز تو فخر کیا جو ہوا اعتبار ہم پر بھی خطا ...

مزید پڑھیے

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا

نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا نہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کا محبت کا نشہ رہے کیوں نہ ہر دم بھرا ہے مئے عشق سے جام دل کا پھنسایا تو آنکھوں نے دام بلا میں مگر عشق میں ہو گیا نام دل کا ہوا خواب رسوا یہ عشق بتاں میں خدا ہی ہے اب میرے بدنام دل کا یہ بانکی ادائیں یہ ترچھی نگاہیں یہی لے ...

مزید پڑھیے

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے barely have I sipped a bit, why should this uproar be It's not that I've commited theft or daylight robbery نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے the preachers prattle can be to inexerience ascribed how does he know the joys thereof, has he ever imbibed اس ...

مزید پڑھیے

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا جو برہمن نے کہا آخر وہ سب کرنا پڑا صبر کرنا فرقت محبوب میں سمجھے تھے سہل کھل گیا اپنی سمجھ کا حال جب کرنا پڑا تجربے نے حب دنیا سے سکھایا احتراز پہلے کہتے تھے فقط منہ سے اور اب کرنا پڑا شیخ کی مجلس میں بھی مفلس کی کچھ پرسش نہیں دین کی خاطر سے ...

مزید پڑھیے

گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن

گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن ادھر تو آؤ مرے گلعذار عید کے دن غضب کا حسن ہے آرائشیں قیامت کی عیاں ہے قدرت پروردگار عید کے دن سنبھل سکی نہ طبیعت کسی طرح میری رہا نہ دل پہ مجھے اختیار عید کے دن وہ سال بھر سے کدورت بھری جو تھی دل میں وہ دور ہو گئی بس ایک بار عید کے دن لگا لیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5390 سے 5858